سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 440

سيرة النبي عمال 440 جلد 2 میرے اشتہارات سے فائدہ نہیں اٹھایا تھا تو میرے خطوط کے ذریعہ نفع ضرور حاصل کیا۔لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں میں سے بعض نے اس سبق کو جو میں نے انہیں دیا تھا بھلا دیا۔انہوں نے میری نصیحت کی قدر نہ کی اور میری حکمت کی علت غائی کو نہ سمجھا۔اور اس طرح رسول کریم ﷺ کی عزت کی حفاظت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے جس طرح نادان دوست اپنے دوست کی امداد کے لئے اٹھتا ہے۔ان کی مدد بالکل اسی طرح تھی جس طرح کہتے ہیں کسی نے ریچھ سے دوستانہ ڈالا ہوا تھا اور ان کے بہت گہرے تعلقات تھے۔ریچھ اس شخص کی بہت خدمت کیا کرتا تھا۔ایک دن وہ کہیں باہر کام کو گیا اس کی ماں جو بیمار تھی اس کے پاس ریچھ کو بٹھا گیا اور اشارے سے بتا گیا کہ مکھیاں اڑاتا رہے۔انسان کے ہاتھ میں جس قسم کی چک مختلف قسم کے کام کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے ویسی ریچھ کے پنجہ میں کہاں ہو سکتی ہے۔ریچھ لکھیاں اڑاتا مگر وہ پوری طرح نہ اڑتیں۔اس پر اس کے دل میں جوش پیدا ہوتا کہ میرا آقا اور محسن مجھے کہہ گیا تھا کہ مکھیاں اڑاتا رہوں مگر یہ اڑتی نہیں۔ایک مکھی جو آنکھ پر بیٹھی تھی اسے اس نے بار بارا ڑ ایا مگر ادھر اڑے ادھر پھر آ بیٹھے۔ریچھ نے سمجھا اس طرح تو یہ باز نہ آئے گی پاس ایک بڑا پتھر پڑا تھا اسے اٹھا لایا اور عورت کے منہ پر دے مارا تا کہ مکھی مر جائے۔سیکھی تو شاید اڑ گئی ہو مگر اس شخص کی ماں پتھر سے مر گئی۔ریچھ نے اپنے خیال میں مکھی اڑائی تھی اور اپنے آقا اور محسن سے اخلاص اور محبت کا اظہار کیا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے اس غرض اور مقصد کو ضائع کر دیا جس کے لئے اسے مکھیاں اڑانے کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔پس بعض مسلمانوں نے ایسی تدابیر اختیار کیں جو نیک نامی کا موجب نہیں ہوئیں بلکہ اعتراض کا باعث بن گئی ہیں۔اسلام دفاع اور خود حفاظتی سے نہیں روکتا لیکن اسے جائز قرار نہیں دیتا کہ بغیر دفاع کی حالت کے اور بغیر خود حفاظتی کی ضرورت کے یونہی کسی پر حملہ کر دیا جائے۔مگر پچھلے دنوں دو واقعات ایسے ہوئے جن میں بیان کیا گیا