سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 439
سيرة النبي الله 439 جلد 2 و, رسول کریم کی بہتک کے ازالہ کا طریق حضرت مصلح موعود نے 28 اکتوبر 1927 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔پچھلے دنوں ہندوؤں کی بعض کا رروائیوں کی وجہ سے جو اشتعال مسلمانوں میں پیدا ہوا اس کے متعلق میں نے متعدد اشتہار شائع کئے اور اپنی طرف سے وہ صحیح طریق بیان کیا جس پر عمل کر کے مسلمان کامیاب ہو سکتے ہیں۔اور میں نے مسلمانوں کو متواتر نصیحت کی تھی کہ وہ ہر قسم کے فتنے اور فساد سے بچیں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں۔مجھے ان اشتہارات پر کئی گالیوں کے خطوط آئے۔کئی لوگوں نے مجھے لکھا کہ تم بزدل ہو۔رسول کریم ﷺ کو گالیاں دینے والے کی سزا سوائے قتل کے اور کوئی نہیں۔آپ ایک طرف تو مسلمانوں کو رسول کریم ﷺ کی عزت کی حفاظت کے لئے بلاتے ہیں اور دوسری طرف اس علاج سے روکتے ہیں جو رسول اللہ الیہ کو گالیاں صلى الله دینے والوں کا ہوسکتا ہے۔میں نے ان لوگوں کو خطوط کے ذریعہ بھی اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ وہ اپنے خیال میں غلطی پر ہیں۔رسول کریم ﷺ کی عزت کی حفاظت الله ظالمانہ افعال کے ذریعہ نہیں ہو سکتی بلکہ آپ کی عزت کی حفاظت ایک مستقل، غیر متزلزل، با امن، پُر جوش ، اور پُر اخلاص جد و جہد سے ہوسکتی ہے جس میں کوئی وقفہ نہ ہو، کوئی سستی نہ ہو، کوئی کمزوری نہ ہو۔اور میں سمجھتا ہوں میرے ان خطوط کا اثر ان لوگوں پر ہوا۔گو وہ ہماری جماعت سے تعلق نہیں رکھتے تھے مگر میری بات نے ان کے دل پر اثر کیا کیونکہ ان لوگوں میں سے کسی کے متعلق ایسی خبر معلوم نہیں ہوئی کہ اس نے کوئی ایسی حرکت کی ہو جو خلاف قانون ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر ان لوگوں نے