سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 434
سيرة النبي الله 434 جلد 2 نبی کریم ﷺ کی محبت پیدا کرنے کا طریق 11 ستمبر 1927 ء کو الفنسٹن (Elphinstone) ہال شملہ میں نواب سر ذوالفقار علی خان صاحب کی زیر صدارت جلسہ میں حضرت مصلح موعود نے 3 گھنٹے کی تقریر فرمائی۔موضوع ” مسلمانوں کی انفرادی اور قومی ذمہ داریاں“ تھا۔دسمبر 1927ء میں یہ تقریر لیکچر شملہ“ کے عنوان سے شائع ہوئی۔اس میں آپ نے آنحضرت علی کی عظیم قربانیوں کے بیان کے بعد مسلمانوں کو نصیحت فرمائی کہ:۔صلى الله میرے ایک رشتہ دار یہاں شملہ میں ایک معزز عہدہ دار ہیں۔انہوں نے اپنا ذاتی واقعہ بیان کیا کہ ایک مرتبہ مجھے ایک مسئلہ کے متعلق شبہات پیدا ہوئے۔میں نے اپنے محلہ کی مسجد کے امام سے پوچھا کہ ایک اسلام کے نہ ماننے والے نے یہ اعتراض کئے ہیں۔بجائے اس کے کہ وہ کوئی جواب دیتا اور مجھے سمجھا تا یہ کہا کہ تیرے باپ کے پاس جا کر کہتا ہوں۔میں نے اسی دن سے عہد کر لیا کہ کسی مولوی سے پوچھنا ہیں۔یہ ایک مثال نہیں میں ایسے بہت سے واقعات سے واقف ہوں۔میرے پاس تو تعلیم یافتہ لوگ آتے ہیں اور وہ اپنے اعتراضات پیش کرتے ہیں۔میں آزادی سے ان کو پوچھنے کا حق دیتا ہوں اور جواب دیتا ہوں۔اس لئے کہ کانشنس کی آواز کو دبا نہیں سکتے۔اگر ہم شبہات اور اعتراضات کا جواب نہ دیں گے تو خود ان کو اسلام اور قرآن سے متنفر کریں گے۔پس اس بات کو خوب یاد رکھو کہ اگر مسلمان اس کے لئے تیار نہیں کہ اپنی اولا د کو مرتد نہ کریں اور انہیں اس کے لئے کبھی بھی تیار نہیں ہونا چاہئے بلکہ ان کو حقیقی مسلمان