سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 435
سيرة النبي عل الله 435 جلد 2 بنانے کے لئے ہر وقت مستعد اور فکرمند رہنا چاہئے تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ عقل خداداد کی روشنی میں قرآن کریم سکھائیں۔اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو اسلام صرف کتاب میں رہ جائے گا۔یہ فلسفہ کا زمانہ ہے میں یہ نہیں کہتا کہ فلسفہ یا سائنس کے نام سے ڈر جانا چاہئے قرآن کریم کا فلسفہ ہی سچا فلسفہ ہے اور محض سائنس یا فلسفہ کے نام سے ہر بیوقوفی کی بات مان لو۔میں خود مثلاً ڈارون کی تھیوری کو نہیں مانتا اور میں نے دیکھا ہے کہ اس کے ماننے والے میرے سوالات کا جواب نہیں دے سکتے۔پس حقیقی علوم اور سائنس قرآن کریم کے خلاف نہیں۔یہ کمزوری ہوگی اگر ان سے کوئی ب جاوے۔نبی کریم ﷺ کی محبت پیدا کرنے کا فرض پہلی بات یہ ہے کہ قرآن مجید کو علیہ پڑھیں ، سمجھیں اور اس پر عمل کریں طریق اور مسلمانوں کا موجودہ عمل تا کہ رسول کریم ﷺ کی محبت دلوں میں پیدا ہو۔رسول کریم ﷺ کی محبت کے لئے ضرورت ہے کہ آپ کی ان قربانیوں کو بیان کریں جو آپ نے قوم اور انسان کے لئے کی ہیں۔جوں جوں انسان ان قربانیوں پر غور کرے گا آپ کے ساتھ محبت اور وفا کا ایک گہرا تعلق پیدا ہوتا جائے گا۔مگر اب مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ آپ کی قربانیوں پر تو غور نہیں کرتے۔وہ یا تو آپ کی مدح و ثنا کرتے وقت آپ کے بالوں اور چہرہ کی تعریف کریں گے اور یا آپ کے خوارق اور معجزات ایسے رنگ میں بیان کریں گے کہ سننے والے کو ہنسی آجاوے۔مثلاً وہ کہیں گے کہ درختوں نے آپ کو سجدہ کیا یا آپ سے گوہ نے کلام کیا۔ایک شخص جو صحیح تاریخ کی روشنی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائف پڑھتا ہو وہ کس طرح ان باتوں کو تسلیم کرے گا۔اور صحیح حدیث میں جب ایسی باتوں کا نشان نہ ملے تو کیا جواب ہوگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علمی، اخلاقی اور روحانی معجزات کیا کم ہیں؟ وہ اتنے اور ایسے ہیں کہ کبھی ختم نہیں ہوتے اور ہر زمانہ میں ان کی صداقت ثابت ہے۔