سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 432

سيرة النبي الله 432 جلد 2 رے تو سب صوبوں کی حکومتیں قانوناً مجبور ہوں کہ وہ اپنے صوبوں میں بھی اس کتاب کا چھپنا یا شائع ہونا بند کر دیں۔یا اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ اس قانون پر عملدرآمد گورنمنٹ آف انڈیا کے اختیار میں ہو جو کسی صوبہ کی گورنمنٹ کے توجہ دلانے پر ایک عام حکم جاری کر دے جس کا سب صوبوں پر اثر ہو۔ورنہ موجودہ قانون کی رو سے اس قسم کی شرانگیز کتابیں یکے بعد دیگرے مختلف صوبوں میں چھپ کر شائع ہوسکتی ہیں اور جب تک کہ سب صوبوں میں ان کا چھپنا بند ہو اُس وقت تک ملک میں خون کا دریا بہہ سکتا ہے۔چنانچہ اس وقت بھی ملک کے قانون کے لحاظ سے راجپال کی کتاب بنگال، بمبئی ، مدراس اور برہما میں چھاپ کر شائع کی جاسکتی ہے اور یہ بات قانون کے خطرناک نقص پر دلالت کرتی ہے۔غرض موجودہ قانون میں یہ نقص ہیں جن کا ازالہ ضروری ہے اور جب تک ان کا ازالہ نہ ہوگا نہ بزرگانِ دین کی عزتوں کی حفاظت ہو سکے گی اور نہ ملک میں امن قائم ہوگا۔پس چاہئے کہ ہندوستان کے تمام شہروں سے مشتر کہ جلسے کر کے مندرجہ بالا نقصوں کی طرف اپنی اپنی گورنمنٹوں کی معرفت ہندوستان کی حکومت کو توجہ دلائی جائے تا ایسا نہ ہو کہ ”ورتمان کے فیصلہ سے مطمئن ہو کر گورنمنٹ قانون میں اصلاح کا خیال چھوڑ دے یا ایسی اصلاح کرے جو ہماری ضرورتوں کو پورا کرنے والی نہ ہو۔میں امید کرتا ہوں کہ تمام مسلمان اول الذکر کام کی طرف تو خود فوری توجہ کریں گے اور دوسری بات کی نسبت اپنی اپنی گورنمنٹوں کی معرفت گورنمنٹ آف انڈیا کو توجہ دلائیں گے اور اپنے منشا سے آگاہ کریں گے اور چونکہ یہ کام امن کے کے لئے ہے اور خود گورنمنٹ کو بدنامی سے بچانا ہے میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ کو اہلِ ملک کی خواہش کے مطابق قانون کی تبدیلی سے انکار نہیں ہو گا۔ہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دوسرا کام گو عارضی ہے لیکن پہلا کام ایک مستقل کام ہے اور اُس وقت تک پورا نہ ہو گا جب تک کہ تمام مسلمان کہلانے والے لوگوں کی