سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 431

سيرة النبي عالم 431 جلد 2 مقدمہ میں گورنمنٹ کے خلاف مسلمانوں کے جوش کی بڑی وجہ یہی تھی کہ پر یوی کونسل میں کیوں اپیل نہیں کی جاتی۔اگر خود مقدمہ چلانے کی اجازت ہوتی تو مسلمان خود اس کام کو کر سکتے تھے اور گورنمنٹ کے خلاف کوئی جوش نہ پیدا ہوتا۔پس قانون کی یہ اصلاح ضروری ہے کہ بزرگان دین کے پیروؤں کو بھی ان کی ہتک کرنے والوں پر نالش کرنے کی اجازت ہے تا کہ اگر گورنمنٹ کسی پر مقدمہ چلانا مناسب نہ سمجھے تو بجائے ایجی ٹیشن کے لوگ خود مقدمہ چلا کر شریر کو اس کے کردار کی سزا دلا سکیں۔جب تک یہ اصلاح نہ ہوگی گورنمنٹ پر رعایا کے مختلف حصے خواہ مخواہ ناراض رہیں گے اور اسے کبھی امن حاصل نہیں ہو گا۔بے شک اس تبدیلی قانون میں بعض نقائص بھی ہیں لیکن ان کا علاج ہو سکتا ہے جیسا کہ میں نے اپنے خط بنام وائسرائے میں ثابت کیا (3) تیسری اصلاح جس کی اس قانون میں ضرورت ہے یہ ہے کہ جوابی کتاب لکھنے والے پر اس وقت تک مقدمہ نہ چلایا جائے جب تک کہ اصل کتاب والے پر بشر طیکہ اس نے گندہ دہنی سے کام لیا ہو مقدمہ نہ چلایا جائے۔اس وقت یہ ہو رہا ہے کہ ایک شخص پر گورنمنٹ مقدمہ چلا دیتی ہے حالانکہ اس نے ایک نہایت گندی کتاب کا جواب لکھا ہوتا ہے۔اس کو چھوڑ دیتی ہے جس نے حملہ میں ابتدا کی ہوتی ہے۔مگر شرط یہ ہونی چاہئے کہ دوسری کتاب پہلی کتاب کا حقیقی جواب ہو نہ کہ نئی مستقل کتاب۔(4) چوتھا نقص اس قانون میں یہ ہے کہ یہ قانون صوبہ دار ہے۔ایک صوبہ کا اثر دوسرے پر نہیں پڑتا۔مثلاً ورتمان“ جسے گورنمنٹ نے ضبط کیا ہے اس کی ضبطی صرف پنجاب، سرحد اور یو پی میں ہوئی ہے۔اگر ہندو اسے بنگال، بمبئی، مدراس، بہار وغیرہ میں شائع کرتے رہیں تو اس میں ان پر کوئی مجرم عائد نہیں ہوتا حالانکہ سارا ہندوستان ایک ہے۔ایک جگہ کی کتاب کا بداثر سارے ملک پر پڑتا ہے۔پس قانون یہ ہونا چاہئے کہ جب ایک گندی کتاب کو ایک صوبہ کی گورنمنٹ ضبط