سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 423

سيرة النبي علم 423 جلد 2 گیا ہے۔لیکن اے مسلمان کہلانے والے! اس بات کو مت بھول کہ جو کچھ ان دونوں نے لکھا اور شائع کیا ہے وہ کروڑوں آدمیوں کے دلوں میں ہے اور جب تک اس کو مٹایا نہ جائے اُس وقت تک محمد رسول اللہ ﷺ فِدَاهُ أَبِي وَ أُمِّی کی عزت قائم نہیں ہو سکتی۔پس تو خوش نہ ہو کہ اگر تو سچا مؤمن ہے تو تیری خوشی اپنے انتقام میں نہیں بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ کے انتقام میں ہے۔اور وہ انتقام یہ ہے کہ تو اُس وقت تک سانس صلى اللهم صلى الله نہ لے کہ جب تک دنیا میں ایک بھی محمد رسول اللہ ﷺ کا منکر باقی ہے۔تو اس پر خوش نہ ہو کہ تو نے محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت میں دنیا کو ماردیا بلکہ اس پر خوش ہو کہ تو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں دنیا کو زندہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بخش آواز کو بعید ترین حصص دنیا میں پہنچا دیا۔آہ! ہم کس بات پر خوش ہیں۔کیا اس بات پر کہ انگریزی حکومت نے جو مذہباً عیسائی ہے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے اور بیسیوں آدمی مقرر کر کے رسول کریم ﷺ کی عزت کی حفاظت کی اور اس بات کا ہمیں خیال بھی نہیں آتا کہ اس عزت کی حفاظت کے لئے ہم نے کچھ بھی نہیں کیا اور نہ کچھ کرنے کی فکر ہے۔ہمیں دوسروں کے کئے پر کیا خوشی ہو سکتی ہے اور ان کی غفلت پرشکوہ کا کیا حق پہنچتا ہے جبکہ ہم خود محمد رسول اللہ علیہ کی عزت کی حفاظت سے غافل ہیں۔مسیحی ایک انسان کو خدا منوانے کے لئے ہزاروں میل کا سفر کرتے ہیں اور جانوں کو خطرہ میں ڈال کر اور کروڑوں روپیہ سالانہ خرچ کر کے اپنے مذہب کی تلقین کرتے پھرتے ہیں۔ہندو جو اب تک اپنے مذہب کی تعریف بھی نہیں کر سکے اور جن کے فرقوں کا باہمی اختلاف اس سے بھی بڑھا ہوا ہے جتنا کہ ان کے بعض فرقوں اور اسلام یا مسیحیت میں ہے لاکھوں روپے خرچ کر کے ہر صوبہ میں پر چار کر رہے ہیں اور شدھی کی رو چل رہی ہے۔لیکن اے مسلمان کہلانے والو ! جن کے نبی کی زبان پر خدا تعالیٰ نے خود یہ الفاظ جاری کئے کہ یايُّهَا النَّاسُ اِنّي رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُمْ جَمِيعَا۔اے تمام بنی نوع انسان ! میں