سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 422
سيرة النبي علي 422 جلد 2 که کسی فرد یا جماعت کا قتل اس کی قیمت قرار دیا جائے کیونکہ کیا یہ سچ نہیں کہ میرا آقا دنیا کو چلا دینے کے لئے آیا تھا نہ کہ مارنے کے لئے۔وہ لوگوں کو زندگی بخشنے آیا تھا نہ کہ ان کی جان نکالنے کے لئے اور وہ زمین کو آباد کرنے کے لئے آیا تھا نہ کہ ویران کرنے کے لئے۔اللہ تعالیٰ آسمان سے اس کے حق میں گواہی دیتا ہے کہ يَايُّهَا الَّذِينَ أَمَنُوا اسْتَجِيْبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ 1 - اے مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہو جبکہ وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے بلاتے ہیں۔غرض محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت دنیا کے احیاء میں ہے نہ کہ موت میں۔پس میں اپنے نفس سے شرمندہ ہوں کہ اگر یہ دو شخص جو ایک قسم کی موت کا شکار ہوئے ہیں اور بدبختی کی مُمبر انہوں نے اپنے ماتھوں پر لگا لی ہے اس صداقت پر اطلاع پاتے جو محمد رسول اللہ ﷺ کو عطا ہوئی تھی تو کیوں گالیاں دے کر برباد ہوتے۔کیوں اس کے زندگی بخش جام کو پی کر ابدی زندگی نہ پاتے اور اس صداقت کا ان تک نہ پہنچنا مسلمانوں کا قصور نہیں تو اور کس کا ہے۔پس میں اپنے آقا سے شرمندہ ہوں کیونکہ اسلام کے خلاف موجودہ شورش در حقیقت مسلمانوں کی تبلیغی ستی کا نتیجہ ہے۔قانونِ ظاہری فتنہ کا علاج کرتا ہے نہ کہ دل کا۔اور میرے لئے اُس وقت تک خوشی نہیں جب تک کہ تمام دنیا کے دلوں سے محمد رسول اللہ ﷺ کا بغض نکل کر اس کی جگہ آپ کی محبت قائم نہ ہو جائے۔لوگوں کے مونہوں پر مُہر لگانے صلى الله سے محمد رسول اللہ ﷺ کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔یہ تو صرف ہمارے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت تو اس میں ہے کہ دل اس کی محبت کے جذبات سے پُر ہوں اور آنکھیں اس کے فراق میں نمناک اور زبانیں اس کی تعریف میں گویا۔" اگر ” سیر دوزخ کا مضمون لکھنے والا اور اس کے چھاپنے والا دونوں قید ہو گئے ہیں تو اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ ہمارے جذبات کو جو صدمہ پہنچا تھا اس کا بدلہ لے لیا