سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 404
سيرة النبي عالم 404 جلد 2 سرکاری حکم کے ماتحت سول نافرمانی کرنے والوں کا مقابلہ کرے گا یا نہیں؟ اگر وہ مقابلہ نہیں کرے گا تو سب کو ملا زمت چھوڑنی پڑے گی اور عدم تعاون شدید صورت میں شروع ہو جائے گا اور میدان بالکل ہندوؤں کے لئے خالی رہ جائے گا۔اور اگر ملازم طبقہ سول نافرمانی کرنے والوں کا مقابلہ کرے گا تو کیا یہ جنگ گھر میں ہی نہ شروع ہو جائے گی ؟ پولیس، فوج اور عدالتوں کے ملازم اگر خود مسلمانوں پر دست درازی کریں گے تو کیا آپس میں ایک دوسرے سے تنافر پیدا ہو گا یا نہیں؟ اور کیا ان چالیس پچاس ہزار ملازموں کے رشتہ دار جو چالیس پچاس لاکھ سے کم نہ ہوں گے دوسرے لوگوں سے جو ان کو برا بھلا کہیں گے برسر پیکار ہوں گے یا نہیں؟ اور کیا اس کے نتیجہ میں ہر گاؤں اور ہر شہر میں مسلمانوں میں ایک خطرناک جنگ شروع ہو جائے گی کہ نہیں ؟ غرض سول نافرمانی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک پہلے عدم تعاون نہ جاری کیا جائے۔سول نافرمانی جاری کرنے سے پہلے سب مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ فوج سے، پولیس اور ایگزیکٹو اور جوڈیشل غرض ہر قسم کی ملازمتوں سے علیحدہ ہو جائیں تا کہ مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑنا نہ پڑے اور سب ملک کے مسلمان آپس میں دست و گریبان نہ ہو جائیں۔لیکن کیا حالات اس بات کی اجازت دیتے ہیں؟ اگر ایسا ہوا تو مسلمانوں کا اس میں فائدہ نہ ہوگا ہاں ہندوؤں کا فائدہ ہوگا۔ایک مسلمان کی جگہ دس ہندو اور سکھ بھرتی ہونے کے لئے تیار ہوں گے اور مسلمانوں کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے گی۔سول نافرمانی کیلئے تیار ہونے والوں کو کیا کرنا چاہئے خلاصہ یہ کہ سول نافرمانی کا تبھی فائدہ ہو سکتا ہے جب لاکھوں آدمی اس کے لئے تیار ہوں اور جب کہ پہلے عدم تعاون کا فیصلہ کر لیا جائے ورنہ سوائے شور کرنے کے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔پس جو لوگ سول نافرمانی کیلئے تیار ہوں میں انہیں مشورہ دوں گا کہ وہ ذرا زیادہ ہمت