سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 403

سيرة النبي الله 403 جلد 2 پیدا کر سکتے ہیں۔لیکن اگر ہمارا مقصد اسلام کی حفاظت اور مسلمانوں کو طاقتور بنانا ہے تو یہ غرض حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ سب ملک میں مسلمان ہی نہ بستے ہوں اور جب تک سب کے سب سول نافرمانی پر آمادہ نہ ہوجائیں۔اور چونکہ صورت حالات اس کے برخلاف ہے اس لئے سول نافرمانی سے کامیابی کی امید رکھنا بالکل درست نہیں۔جیل میں جانے والوں کے بال بچے کیا کریں گے پھر ہم اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے کہ جو لوگ جیل خانوں میں جائیں گے ان کے رشتہ داروں کا گزارہ کس طرح ہوگا۔مسلمانوں کے پاس حکومت نہیں کہ وہ جبر یہ ٹیکس سے سب کے گزارہ کی صورت پیدا کر لیں گے۔جو لوگ قید ہوں گے ان کے رشتہ دار یقینا قرض پر گزارہ کریں گے اور وہ قرض ہندو بنئے کے پاس سے انہیں ملے گا جس کی وجہ سے وہی لوگ جو اسلام کی مدد کیلئے نکلیں گے در حقیقت اسلام کو اور زیادہ کمزور کر دینے کے موجب ہو جائیں گے۔یہ امر بھی نہیں بھلایا عدم تعاون کے بعد سول نافرمانی ہونی چاہئے ان کی سول نافرمانی سول جاسکتا ہمیشہ عدم تعاون کے بعد ہوتی ہے۔تعاون اور سول نافرمانی کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔میں مسٹر گاندھی سے بہت اختلاف رکھتا ہوں لیکن ان کی یہ بات بالکل درست تھی کہ انہوں نے پہلے عدم تعاون جاری کیا اور اس کا دوسرا قدم سول نافرمانی رکھا۔ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ مدد نہ کرنے اور نافرمانی کرنے میں فرق ہے۔مدد نہ کرنا ادنیٰ درجہ کا انقطاع ہے اور نافرمانی اعلیٰ درجہ کا انقطاع ہے۔اور یہ ممکن نہیں کہ ہم ادنی انقطاع کئے بغیر اعلیٰ انقطاع کر دیں۔جو لوگ سول نافرمانی کریں گے جب ان کو گورنمنٹ سزا دینے لگے گی تو کیا پچاس ساٹھ ہزار مسلمان جو سرکاری ملازمت میں ہے وہ