سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 397

سيرة النبي علي 397 جلد 2 کر کام کر رہے ہیں۔ان جلسوں کے لئے شروع دن سے بائیس جولائی کی تاریخ اور نماز جمعہ کے بعد کا وقت مقرر تھا۔لیکن مجھے معلوم ہوا ہے کہ خلافت کمیٹی کی طرف سے حال ہی میں ایک اعلان ہوا ہے کہ ان کی طرف سے بھی بائیس جولائی کو اسی وقت جلسے کئے جائیں۔انقلاب مؤرخہ 17 جولا ئی صفحہ 7 ب کالم 4) میرا خیال ہے کہ اس تاریخ کے مقرر کرتے وقت کارکنانِ خلافت کے ذہن میں یہ بات نہ ہو گی کہ ایسے جلسے پہلے مقرر ہو چکے ہیں ورنہ وہ اس زمانہ میں جب کہ مسلمانوں میں پورے اتحاد کی ضرورت ہے بائیس جولائی کو الگ جلسے مقرر نہ کرتے۔مگر اب جب کہ ان کی طرف سے اعلان ہو چکا ہے میں مسلمانوں کے فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے خواہش کرتا ہوں کہ چونکہ ہماری طرف سے ایک ماہ سے اعلان ہو رہا تھا اور تیاری مکمل ہو چکی ہے اور متواتر اخباروں اور پوسٹروں کے ذریعہ سے تحریک ہوتی رہی ہے اور بعض اہم مقامات کی طرف واعظ بھی بھیجے جاچکے ہیں اور ہزاروں روپیہ کا خرچ برداشت کیا جا چکا ہے اس لئے خلافت کمیٹی مہربانی فرما کر اپنے جلسوں کو یا تو کسی دوسرے دن پر ملتوی کر دے یا کم سے کم وقت ہی بدلا دے۔مثلاً یہ کہ جن جلسوں کا انتظام ہم نے کیا ہے وہ جمعہ اور عصر کے درمیان ہوں گے تو وہ بعد از مغرب اپنے جلسے مقرر کر دے۔اگر اس قدر خرچ اور محنت سے اور نیز سب فرقوں کے سر بر آوردہ لوگوں کے مشورہ کے ساتھ جلسوں کا انتظام نہ ہو چکا ہوتا تو میں خود ہی جلسہ کی تاریخیں بدل دیتا کیونکہ وقت اور دن کی نسبت اتحاد بہت زیادہ اہم شے ہے۔لیکن ایک ماہ کی مسلسل تیاری کے بعد ہمارے لئے اس قدر مجبوریاں ہیں کہ ہمارے لئے دن اور وقت کا بدلنا بہت مشکل ہے۔خصوصاً اس لئے کہ جو جلسے بائیس کو ہماری تحریک پر مقرر ہوئے ہیں وہ صرف ہماری جماعت کی طرف سے نہیں ہیں بلکہ شیعہ ، سنی، اہل حدیث ، حنفی ، احمدی سب کی طرف سے مشتر کہ جلسے ہیں۔