سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 398
سيرة النبي علم 398 جلد 2 دو مختلف تاریخوں میں جلسے ہوں بائیس تاریخ کوئی مذہبی تاریخ نہیں کہ اس سے جلسے ادھر ادھر نہ کئے جا سکتے ہوں اس لئے بجائے اس کے کہ طاقت کو منتشر کیا جائے اور دشمنوں کو ہنسی کا موقع دیا جائے کیوں نہ دو مختلف تاریخوں میں جلسے ہوں اور طاقت کو پراگندہ ہونے سے محفوظ رکھا جائے۔اگر ایک ہی وقت میں مسلمانوں کی کچھ جماعت ایک طرف اور کچھ دوسری طرف جاتی ہوئی نظر آئی تو ہندو لوگ کہیں گے کہ رسول کریم مے کی حفاظت کے معاملہ میں بھی یہ لوگ ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے اور اس سے اسلام کی عزت کو جو صدمہ پہنچے گا اس کا اندازہ ہر اک اسلام کا درد رکھنے والا انسان خود ہی لگا سکتا ہے۔ہندوؤں کو جو دلیری اور جرات اس سے حاصل ہو گی اس کا خیال کر کے میرا دل کانپ جاتا ہے اور میری روح لرز جاتی ہے۔اس آفت و مصیبت کے زمانہ میں کہ اسے کربلا کا اسلام کیلئے کر بلا کا زمانہ زمانہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کیونکہ کفر و ضلالت کے لشکر محمد رسول اللہ اللہ کے لائے ہوئے دین کو اسی طرح گھیرے ہوئے ہیں کہ جس طرح کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کو یزید کی فوجوں نے گھیرا ہوا تھا۔آہ! آج اسلام کی وہی حالت ہے جو ذیل کے شعر میں بیان ہوئی ہے کہ ہر طرف کفر است جوشاں ہمچو افواج یزید دین حق بیمار و بے کس ہمچو زین العابدین اشتراک عمل کی دعوت پس میں امید کرتا ہوں کہ مرکزی خلافت کمیٹی اپنے فیصلہ میں مندرجہ بالا تبدیلی کر کے دشمنان اسلام کے دلوں پر ایک کاری حربہ چلائے گی اور ان کی تازہ امیدوں کو خاک میں ملا دے گی اور مقامی انجمن ہائے خلافت بھی اپنے جلسوں کو کسی اور وقت اور دن پر ملتوی کر دیں گی