سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 393

سيرة النبي الله 393 جلد 2 کنور دلیپ سنگھ صاحب کو جن کے فیصلہ متعلقہ کتاب ”رنگیلا رسول“ کی وجہ سے صوبے کی اکثر آبادی کو ان پر اعتماد نہیں رہا اس عہدہ جلیلہ سے الگ کر کے مسلمانوں کی بے چینی کو دور کرے۔نیز یہ بھی مطالبہ کیا جائے کہ مسلم آؤٹ لگ کے مدیر اور مالک کو قید سے رہا کر دیا جائے کیونکہ انہوں نے مسلمانوں کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے در حقیقت ہائی کورٹ کی عزت کو بچانے کی کوشش کی ہے نہ کہ اس کے انتہار کو مٹانا چاہا ہے۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہائی کورٹ نے ان کی قید کا حکم دے کر اپنے ہاتھوں اپنی عزت کو سخت صدمہ پہنچایا ہے اور چونکہ اس وقت ہائی کورٹ میں ہندوستانی جوں میں سے اکثریت ہندوؤں کی ہے اور پنجاب کے مسلمانوں کی اس بات میں سخت ہتک ہے کہ مسلمان بیرسٹروں میں سے ایک بھی حج مقرر نہیں بلکہ ایک حج تو سروس سے لیا گیا ہے اور ایک حج یوپی سے بلایا گیا ہے حالانکہ پنجاب میں مسلمانوں کی آبادی 55 فیصدی ہے اور اکثر مقدمات مسلمانوں کے ہی ہوتے ہیں۔پس مسلمانوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں اور کم سے کم ایک مسلمان حج پنجاب کے بیرسٹروں میں سے فوراً مستقل طور پر مقرر کیا جائے اور جو موجودہ مسلمان حج ہیں انہیں اگر گورنمنٹ رکھنا چاہتی ہو تو انہیں فوراً مستقل کر دے۔اور یا انہیں واپس کر کے ان کی جگہ دوسرے مسلمان حج مقرر کئے جائیں تا مسلمانوں کی بے چینی دور ہو اور چاہئے کہ اگلا چیف حج پنجاب کا مسلمان بیرسٹر جج مقرر ہو۔اسی طرح یہ بھی مطالبہ کیا جائے کہ پنجاب جس میں اکثر حصہ آبادی کا مسلمان ہیں اس میں مسلمانوں کو پچیس فیصدی ملازمتیں بھی حاصل نہیں ہیں بلکہ بعض صیغوں میں تو دس فیصدی بھی مسلمان اعلیٰ ملازم نہیں ملیں گے۔اس کا خطرناک اثر مسلمانوں کے تمدن اور ان کے حقوق کی حفاظت پر پڑتا ہے۔پس جس قدر جلد ممکن ہو مسلمانوں کو کم سے کم نصف ملازمتیں دی جائیں تا کہ ان کے حقوق کی حفاظت ہو سکے۔یہ محضر نامہ چھپ کر تیار ہے۔میرے نزدیک اس پر کم سے کم پانچ چھ لاکھ