سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 394
سيرة النبي عالم 394 جلد 2 مسلمانوں کے مرد ہوں یا عورتیں دستخط ہونے چاہئیں۔یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ حکومت ہند اور حکومت برطانیہ کے اوپر اثر کئے بغیر نہیں رہے گی اور یہ محضر نامہ بھی دستخطوں کی تکمیل کے بعد ایک وفد کے ذریعہ گورنمنٹ کے سامنے پیش ہونا چاہئے۔میں امید کرتا ہوں کہ ایک بہت بڑا وفد جو سب فرقوں کے نمائندوں پر مشتمل ہوگا جب اسے پیش کرے گا تو گورنمنٹ اس متفقہ مطالبہ کو رد نہیں کر سکے گی کیونکہ ملک کا فائدہ اور گورنمنٹ کی مضبوطی بھی اسی امر میں ہے کہ وہ ان مطالبات کو جلد سے جلد پورا کرے۔جو لوگ اس محضر نامہ پر دستخط کرانے کی خدمت کو اپنے ذمہ لینا چاہیں وہ مجھے یا صیغہ ترقی اسلام قادیان کو اطلاع دیں تا ان کے نام مطبوعہ فارم بھجوا دئیے جائیں۔اسی طرح میری یہ تجویز ہے کہ 22 جولائی بروز جمعہ بعد از نماز جمعہ پنجاب، دہلی اور سرحدی صوبہ کے ہر شہر، قصبہ اور گاؤں میں تمام فرقہ ہائے اسلامی کا ایک مشترکہ جلسہ کیا جائے جس میں اوپر کے امور کی تائید میں ریزولیوشن پاس کئے جائیں اور تاروں اور خطوں کے ذریعہ سے گورنمنٹ کو اسلامی حقوق کی حفاظت کی طرف توجہ دلائی جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر حقیقی اصلاح کے کام کے ساتھ ساتھ ان تدابیر پر عمل شروع کیا جائے تو اِنشَاءَ اللہ یقیناً مسلمانوں کو کامیابی ہو گی۔یہ کام اتنی بڑی محنت اور قربانی کو چاہتے ہیں کہ اگر مسلمان ان میں کامیاب ہو جا ئیں تو دنیا سمجھ لے گی کہ اب ان کا مقابلہ ناممکن ہے۔اور ان کی آواز اس قدر کمزور نہ رہے گی جس قدر کہ اب ہے بلکہ ہر ایک ان کی آواز سے ڈرے گا اور اس کا ادب کرے گا اور اس پر کان رکھے گا۔اے بھائیو! میں نے اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنے فرض کو ادا کر دیا۔اب کام کرنا آپ کے اختیار میں ہے۔وقت کم اور کام بہت ہے۔چاہئے کہ اسلام کے لئے درد رکھنے والے لوگ آج سے ہی اس کام کو ہاتھ میں لیں اور علاوہ تبلیغی اور تمدنی اصلاح کے کاموں کے محضر نامہ پر دستخط کرانا اور 22 جولائی کے جلسے کے لئے