سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 385

سيرة النبي علي 385 جلد 2 بزگی و طہارت کے مجسمہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم فِدَاهُ أَبِى وَ أُمِّی پر ایک سے ایک بڑھ کر نا پاک حملے کر رہے ہیں اور ان کی فطرت اس غلاظت اور نجاست پر منہ مارنے سے کراہت نہیں کرتی۔حالانکہ یہ ایسا گندہ فعل ہے کہ انسانیت اس کے خیال سے کانپتی ہے اور شرافت ایسے ذکر سے نفرت کرتی ہے۔شریف الطبع لوگ تو معمولی آدمی کو گالیاں دینے سے بھی دریغ کرتے ہیں کجا یہ کہ اس قسم کے مصنف اس پاکباز کو گندے سے گندے الفاظ سے یاد کرتے ہیں جس پر طہارت کو فخر ہے اور پاکیزگی کو ناز۔,, کتاب ”رنگیلا رسول“ اور ” و چتر جیون سے یہ ہولی شروع ہوئی۔کنور دلیپ سنگھ صاحب کے فیصلے سے جرات پا کر ورتمان“ نے اس ظلم کو اور بڑھایا۔اور اس کے بعد پے در پے پرتاپ“ اور ”ملاپ وغیرہ کے ایڈیٹروں نے اپنی دریدہ دینی کا ثبوت دیا۔اس ناپاک حملے کے جواب میں مسلمانوں نے کیا کیا اور اس کا کیا بدلہ ملا !! وہ ظاہر ہے۔مسلم آؤٹ لگ میں کنور دلیپ سنگھ صاحب کے فیصلے پر جرح کی گئی تو ایڈیٹر اور مالک ہتک عدالت کے مجرم میں قید خانے میں ڈال دیئے گئے۔وہ ہندوستان کی سرزمین جس پر کل تک محمد رسول اللہ ﷺ کے غلام حکومت کر رہے تھے آج اس کی عزت کی حفاظت کرنے والے عدالت عالیہ کی ہتک کے مرتکب قرار پا کر قید خانے کی دیواروں کے پیچھے محبوس ہیں۔یہ کیوں ہے؟ اسی لئے کہ مسلمانوں نے اپنے فرائض کو بھلا دیا اور اپنی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال دیا۔خدا تعالیٰ ظالم نہیں۔وہ قرآن کریم میں فرماتا ہے اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ 1 - اللہ تعالیٰ یقینا کسی قوم سے اس کی نعمتیں نہیں چھینتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو ان نعمتوں کے استحقاق سے محروم نہیں کر دیتی۔پس اے مسلمانو! اپنے حال پر غور کرو اور اپنی مشکلات پر نظر ڈالو۔ایک دن وہ تھا کہ خدا کی نصرت تم کو کرہ ارض کے کناروں تک لے جارہی تھی اور آج تم دوسری قوموں کا فٹ بال بن رہے ہو۔جس کا جی چاہتا ہے پیر مار کر تمہیں