سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 384
سيرة النبي الله 384 جلد 2 کیا آپ اسلام کی زندگی چاہتے ہیں؟ راجپال کی کتاب ”رنگیلا رسول“ اور اس کے بعد کے واقعات کی وجہ سے ہندوستان میں جو حالات پیدا ہوئے حضرت مصلح موعود نے ان کے بارہ میں مسلمانوں کی راہنمائی فرماتے ہوئے جولائی 1927ء میں یہ مضمون لکھا:۔أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ جس سرعت سے ہندوستان میں حالات بدل رہے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آج مسلمانوں کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ انسان سو بھی سکتا ہے لیکن اب وہ وقت آگیا ہے کہ مسلمان اگر سونا بھی چاہیں تو ان کے لئے ناممکن ہے۔خدا تعالیٰ کے فرشتے انہیں مار مار کر اٹھا رہے ہیں اور انہوں نے سخت دل دشمن کو ان پر مسلط کر دیا ہے تا کہ وہ ان کی نیند کو ان پر حرام کر دے۔اب اُن کے لئے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار کرنا لازمی ہے۔یا تو بیدار ہو کر اپنی زندگی کو قائم رکھیں یا مرکز زمین کو اپنے وجود سے پاک کر دیں۔سب درمیانی راہیں آج ان پر بند ہیں اور سب دوسرے دروازے آج ان کے لئے مقفل ہیں۔کتاب ”رنگیلا رسول“ کے فیصلے نے ہندوؤں میں سے ان لوگوں کو جو بزرگان دین کی ہتک میں لذت محسوس کرتے ہیں اور خدا کے پیاروں کو گالیاں دینا ان کی غذا ہے اس قدر دلیر کر دیا ہے کہ وہ خدا کے برگزیدہ رسول اور نبیوں کے سردار اور