سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 377

377 جلد 2 سيرة النبي علي کے ان کتابوں میں کئے گئے ہیں۔آریہ خدا کے تو قائل ہیں پھر روس کے ملک میں جو خدا پر اعتراض کئے جاتے ہیں ان کے پاس ان کے کیا جواب ہیں؟ روسی جو د ہر یہ ہیں تھیڑوں میں خدا کو مجرم کے طور پر دکھاتے اور لینن کو حج بنا کر اس کے سامنے پیش کرتے ہیں اور دنیا میں جو حادثات ہوتے ہیں ان کو جرم کے طور پر پیش کر کے یہ الزام لگاتے ہیں کہ نَعُوذُ بِاللهِ اتنا بڑا مجرم ہے۔اور پھر سزا دیتے ہوئے کہتے ہیں خدا کا خاتمہ ہو گیا اور اب لینن کی پُر انصاف حکومت قائم ہوگئی ہے۔تو ایسے رنگ میں بد زبانی کرنے والے تو خدا کے متعلق بد زبانی سے بھی نہیں رکتے اور گالیوں کے لئے دلائل کی ضرورت ہی کونسی ہوتی ہے۔اسی طرح کتاب راجپال اور ورتمان میں کونسی دلیل ہے جس کا ہم جواب دیں۔اس کا جواب سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ ایسے بدزبانوں کی یا ان کی قوم کے لوگوں کی شرافت ابھرے اور وہ اس بد زبانی سے باز آجائیں یا پھر گورنمنٹ رو کے ورنہ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک میں فساد ہوں گے۔رسول کریم اللہ کی عزت کے متعلق مسلمانوں میں اس وقت بے انتہا جوش ہے۔باوجود اس کے کہ میں متواتر توجہ دلا رہا ہوں کہ مسلمان امن سے رہیں اور فتنہ پرداز لوگوں کی شرارتوں سے مشتعل نہ ہوں اور باوجود اس کے کہ مسلمان میری باتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں پھر بھی اس قسم کے خطوط آتے ہیں کہ آپ کیوں مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔آپ ہمیں وہ کچھ کر لینے دیں جو ہمارا دل چاہتا ہے۔یہ بات بتاتی ہے کہ اس وقت کس طرح مسلمانوں کے دلوں میں رسول کریم ﷺ کی محبت موجزن ہے۔ایسی حالت میں آریوں کا یہ کہنا کہ مسلمان اس لئے شور مچا رہے ہیں کہ وہ جانتے ہیں ان کے رسول کی زندگی میں رنگیلا پن پایا صلى الله جاتا ہے۔آگ پر تیل ڈالنا نہیں تو اور کیا ہے۔اس جملہ میں رسول کریم ﷺ کی اور زیادہ ہتک ہے کیونکہ کتاب ”رنگیلا رسول“ شائع کرنے والے نے جو کچھ لکھا اپنی طرف سے لکھا اور جو نا پاک کلمات کہے اپنی طرف سے کہے۔لیکن ” پرتاپ یہ کہتا ، د