سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 376

سيرة النبي علي 376 جلد 2 کرنا چاہتے۔ورنہ ہم ہندوؤں کی اپنی کتابوں سے ہی وہ وہ واقعات لکھ سکتے ہیں کہ ہندوؤں کے لئے مجلسوں میں بیٹھنا مشکل ہو جائے۔پس ہمارا مذہب ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم دوسرے مذاہب کے بزرگوں کے خلاف بدزبانی کریں۔لیکن اگر ہندوؤں کی طرف سے متواتر اسی طرح حملے جاری رہے تو ہمیں حملے کے طور پر نہیں بلکہ یہ بتانے کے لئے کہ ایسی باتوں سے کس قدر دکھ اور تکلیف پہنچتی ہے بتانا پڑے گا کہ ہندوؤں کی کتابوں میں کیا لکھا ہے۔ہمارے پاس اتنا ذخیرہ ہے کہ اگر ہند و باز نہ آئے اور گورنمنٹ نے ان کو نہ روکا تو ہمیں بھی وہ پیش کرنا پڑے گا اور ہمارے پاس اس کے لئے اتنا سامان ہے جو سارے ہندوستان کو جلا دینے کے لئے کافی ہے۔ہندوستان کے کسی گوشہ کا کوئی رشی منی جسے ہند و پوجتے ہیں ایسا نہیں جس کے متعلق ہندوؤں ہی کی کتابوں میں ایسے واقعات موجود نہ ہوں جن کی کسی جگہ ہر گز مثال نہیں مل سکتی۔اگر ہندوؤں نے اس گندی اور نا پاک جنگ کو بند نہ کیا اور بلا وجہ ناپاک حملوں سے باز نہ آئے اور ہندو قوم نے ایسے گندے لوگوں سے اظہار نفرت نہ کیا اور گورنمنٹ نے بھی ان فتنہ انگیز لوگوں کو نہ روکا تو یہ بتانے کے لئے کہ کس طرح مسلمانوں کے دل دکھتے ہیں نہ کہ ہندوؤں کے بزرگوں کی ہتک کرنے کے لئے ( کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ باتیں ان بزرگوں میں نہ ہوں گی ) ہم بھی کتابیں لکھیں گے اور ہر زبان میں انہیں شائع کریں گے۔اس کے بعد میں اس کتاب کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جس نے سارے ہندوستان میں آگ لگا رکھی ہے۔ہندو تو کہتے ہیں کہ مسلمان ”رنگیلا رسول، و چتر جیون اور ورتمان“ کا جواب نہیں دے سکتے اور ڈرتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ ان گندی گالیوں اور بدزبانیوں کا جواب ہی کیا ہوسکتا ہے جو ان ناپاک کتابوں میں دی گئی ہیں۔کیا ان میں کوئی علمی مضمون ہے جس کا جواب دیا جائے اور کیا اس قسم کے اعتراض ہر انسان پر نہیں ہو سکتے جس قسم