سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 349

سيرة النبي الله 349 جلد 2 اگر ہندوؤں کا حق ہے کہ وہ اپنی دولت کو بڑھانے کے لئے مسلمانوں سے چھوت چھات کریں اور اپنی قوم کی ہرممکن ذریعہ سے پرورش کریں تو کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ حق حاصل نہ ہو۔مجھے تعجب آتا ہے کہ ہندوخود چھوت چھات کرتے ہیں اور سنگھٹن کی تائید میں لیکچر دیتے پھرتے ہیں لیکن جس وقت مسلمان وہی کام کرتے ہیں تو شور مچا دیتے ہیں کہ دیکھو یہ ملک کے امن کو بگاڑتے ہیں۔گویا ان کے نزدیک ہر کوشش جو مسلمانوں کو ہندوؤں کی غلامی سے آزاد کرانے کے لئے کی جائے وہ ملک کے امن کے خلاف ہے۔مگر ہم نے اس امن کو کیا کرنا ہے جس سے ہماری ہستی ہی مٹ جائے اور پھر اس فساد کے ذمہ دار ہندو لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی بیداری کی وجہ سے پیدا ہو نہ کہ مسلمان۔وہ شخص جو اپنے حقوق کی حفاظت کرتا ہے وہ کس طرح مفسد کہلا سکتا ہے۔مفسد وہ ہو گا جو اسے اس کے جائز حق کے لینے سے روکتا ہے۔اصل میں یہ شور ہی بتاتا ہے کہ ہندو قوم اس تدبیر سے سب سے زیادہ گھبراتی ہے۔پس صلى الله اس تدبیر پر ہمیں سب سے زیادہ زور دینا چاہئے اور اس زمانہ میں رسول کریم علی کی حفاظت کے لئے سب سے پہلی جدو جہد ہماری یہی ہونی چاہئے کہ ہم ہندوؤں سے چھوت چھات کریں۔مسلمانوں کا روپیہ آنحضرت عل میں تمام ان مسلمانوں سے جو رسول کریم ﷺ کی محبت دل میں کے خلاف خرچ کیا جا رہا ہے رکھتے ہیں پوچھتا ہوں کہ کبھی انہوں نے یہ بھی خیال کیا ہے کہ رنگیلا رسول، و چتر جیون اور ورتمان وغیرہ قسم کی کتب اور رسالے انہی کے روپیہ سے چھاپے جاتے ہیں اور انہی کے روپیہ سے ان کتب کے لکھنے والوں کی مدافعت کی جاتی ہے۔اگر ان میں واقعہ میں رسول کریم ﷺ کے لئے غیرت ہے تو وہ کیوں وہ ہتھیار ہندوؤں کو مہیا کر کے دیتے ہیں جن سے وہ رسول کریم ﷺ کی عزت پر حملہ کرتے ہیں۔مسلمانوں کی تمدنی بر بادی ہی ان