سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 350
سيرة النبي عل الله 350 جلد 2 سب خرابیوں کی ذمہ وار ہے اور اس کا دور کرنا ان کا سب سے پہلا فرض ہے۔اپنے رو پیر کو محفوظ کر کے وہ دیکھیں تو سہی کہ کس طرح مخالفین اسلام کی طاقت آپ ہی آپ ٹوٹ جاتی ہے اور خودان میں پھوٹ پڑ جاتی ہے۔جو لوگ آج مسلم آؤٹ لگ کے بہادر ایڈیٹر اور جری مالک کے پیچھے جیل خانہ جانے کے لئے تیار ہیں میں ان سے کہتا ہوں آپ کا کام جیل خانہ کے باہر ہے۔ان چیزوں میں ہندوؤں سے چھوت چھات کرو جن میں ہندو چُھوت کرتے ہیں اور دوسری چیزوں میں مسلمانوں کی مدد کرو تو یہ بہترین تدبیر ہو گی جس سے آپ ان جیل میں جانے والوں کی مدد کر سکیں گے اور ان کے کام کو کامیاب بنا سکیں گے۔چاہئے کہ اس وقت سب جگہ کے مسلمان اس امر پر اتفاق کر لیں کہ جلد سے جلد ہر قسم کی دکانیں مسلمانوں کی نکل آئیں اور جہاں تک ہو سکے مسلمان ان ہی سے سودے خریدیں۔بائیکاٹ کے طور پر نہیں بلکہ صرف ہندوؤں کی تدابیر کے جواب کے طور پر اور اپنی قوم کو ابھارنے کے لئے۔اے بھائیو! یا درکھو کہ صرف جلسوں میں ریزولیوشن پاس کرنے سے کچھ نہ بنے گا کیونکہ ان کا کوئی مادی اثر نہیں۔جیل خانوں میں جانے سے کچھ نہیں بنے گا کیونکہ اس میں خود ہمارا اپنا نقصان ہے۔عقلمند وہ کام کرتا ہے جس سے اس کا فائدہ ہو اور اس وقت اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ اس میں ہے کہ مسلمانوں کی تمدنی حالت کو درست کیا جائے۔ان کی اپنی دکانیں کھولی جائیں۔آڑھت بالکل ہندوؤں کے قبضہ میں ہے اور اس سے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔ہمیں مسلمانوں کی آڑھت کی دکانیں کھلوانے کی مسلمانوں کی آڑھت پوری کوشش کرنی چاہئے۔جب تک آڑھت کی وکا نہیں نہیں کھلیں کی کبھی مسلمان زمیندار اور دکاندار نہیں پنپ سکتے۔اندھیر ہے کہ جو روپیہ اس وقت ہند و تبلیغ پر خرچ ہو رہا ہے اس کا کافی حصہ مسلمانوں کے گھروں سے