سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 337
سيرة النبي الله 337 جلد 2 رسول کریم علیہ کی عزت کا تحفظ اور ہمارا فرض 1927ء میں ایک دریدہ دہن شخص راجپال نے ایک کتا بچہ ”رنگیلا رسول“ کے نام سے شائع کیا جس میں رسول کریم ﷺ کی سیرت پر ناپاک حملے کئے گئے۔اس سے مسلمانوں کو شدید ذہنی اذیت پہنچی۔حکومت کی طرف سے مقدمہ چلا کر اسے کچھ قید کی سزا ہوئی لیکن اپیل پر کنور دلیپ سنگھ حج ہائی کورٹ نے کہا کہ رسول کریم ﷺ کی تو ہین قانون کی زد میں نہیں آتی۔جس پر لاہور کے انگریزی رسالہ ”مسلم آؤٹ لگ“ Muslim Outlook) میں اداریہ شائع ہوا جس میں جج کے فیصلہ پر تنقید کی گئی۔اس پر اخبار کے مالک مولوی نور الحق صاحب اور پرنٹر سید دلاور شاہ صاحب احمدی پر توہین عدالت کا مقدمہ چلا کر چھ ماہ قید اور جرمانہ کی سزا ہوئی۔اس پر حضرت مصلح موعود نے 23 جون 1927 ء کو مندرجہ ذیل مضمون لکھا:۔أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ ابھی پانچ ہی دن ہوئے کہ سید دلاور شاہ صاحب بخاری اپنے ایک عزیز کے ساتھ اس نوٹس کے متعلق جو ہائی کورٹ کی طرف سے مستعفی ہو جاؤ“ والے مضمون کے متعلق انہیں ملا تھا میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے دریافت کیا کہ انہیں اس