سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 338
سيرة النبي عمال 338 جلد 2 موقع پر کیا کرنا چاہئے۔اور ضمناً ذکر کیا کہ بعض لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ اظہار افسوس کر دینا چاہئے۔میں نے انہیں کہا کہ ہمارا فرض ہونا چاہئے کہ صوبہ کی عدالت کا مناسب احترام کریں لیکن جبکہ ایک مضمون آپ نے دیانت داری سے لکھا ہے اور اس میں صرف ان خیالات کی ترجمانی کی ہے جو اس وقت ہر ایک مسلمان کے دل میں اٹھ رہے ہیں تو اب آپ کا فرض سوائے اس کے کہ اس سچائی پر مضبوطی سے قائم رہیں اور کیا ہوسکتا ہے۔یہ رسول کریم ﷺ کی محبت کا سوال ہے اور ہم اس مقدس وجود کی عزت کے معاملہ میں کسی کے معارض بیان پر بغیر آواز اٹھانے کے نہیں رہ سکتے۔میں قانون تو جانتا نہیں اس کے متعلق تو آپ قانون دان لوگوں سے مشورہ لیں مگر میری طرف سے آپ کو یہ مشورہ ہے کہ آپ اپنے جواب میں یہ لکھوا دیں کہ اگر ہائی کورٹ کے بچوں کے نزدیک کنور دلیپ سنگھ صاحب کی عزت کی حفاظت کے لئے تو قانون انگریزی میں کوئی دفعہ موجود ہے لیکن رسول کریم ﷺ کی عزت کی حفاظت کے لئے کوئی دفعہ موجود نہیں تو میں بڑی خوشی سے جیل خانہ جانے کے لئے تیار ہوں۔جیسا کہ سب احباب کو معلوم ہے اس مضمون کو نہایت خوبصورت الفاظ میں سید دلاور شاہ صاحب نے اپنے جواب کے آخر میں درج کر دیا اور مؤمنانہ غیرت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ اپنا حقیقی جواب وہی دیتے جو انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں دیا۔الله قانون کا حیرت انگیز نقص کل خبر آگئی ہے کہ اس مقدمہ کا فیصلہ ہو گیا ہے اور سید دلاور شاہ صاحب بخاری ایڈیٹر مسلم آؤٹ لگ کو چھ ماہ قید اور ساڑھے سات سو روپیہ جرمانہ ہوا ہے اور مولوی نور الحق صاحب پر و پرائٹر کو تین ماہ قید اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ ہوا ہے۔ہمیں قانون کے اس نقص پر تو حیرت ہے کہ رسول کریم ﷺ فِدَاهُ نَفْسِی وَ رُوحِی کی عزت پر نا پاک سے نا پاک حملہ کرنے والوں پر تو مہینوں مقدمہ چلے اور آخر میں براءت ہو اور ہائی کورٹ