سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 336

سيرة النبي الله 336 جلد 2 علومة صلى الله اب دیکھو اس معاملہ میں کیا نتیجہ نکلا۔کفار کی تباہی کا موجب یہی معاہدہ بن گیا۔اور وہ اس طرح کہ مکہ کے بعض لوگ مسلمان ہو گئے اور مسلمان ہو کر کفار کی تکلیفوں سے بچنے کے لئے مدینہ آ گئے۔ان کو واپس لے جانے کے لئے کفار کے آدمی رسول کریم ہے کے پاس آئے اور واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔رسول کریم نے ان کو واپس کر دیا مگر وہ رستہ سے چھوٹ کر پھر بھاگ آئے۔جب پھران کو لینے کے لئے آئے تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے تو معاہدہ کی رو سے ہمیں بھیج دیا تھا اب ہم ان سے چھوٹ کر آ گئے ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں تم چلے جاؤ۔وہ چلے تو گئے لیکن مکہ جانے کی بجائے مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ٹھہر گئے۔اور جب اور لوگوں کو بھی پتہ لگا کہ وہاں ٹھہرے ہوئے ہیں تو وہ بھی آنے لگ گئے اور ان کی ایک جماعت بنی شروع ہو گئی۔چونکہ وہ کفار کے ستائے ہوئے تھے اس لئے شام کی طرف جو قافلے جاتے ان سے چھیڑ چھاڑ شروع ہو گئی۔آخر مکہ والوں نے مجبور ہو کر رسول کریم ﷺ سے درخواست کی کہ ان لوگوں کو اپنے پاس بلا لو۔چنانچہ رسول کریم ﷺ نے ان کو بلا لیا 3۔یہ بھی ایک تدبیر تھی جس سے فتح مکہ کی بنیاد رکھی گئی۔اگر اُس وقت صحابہ لڑ پڑتے اور اس تدبیر کو قبول نہ کرتے تو فتح نہ ہوتی۔پس فتح ہمیشہ دماغ کے ذریعہ ہوتی ہے۔اور چونکہ دماغ کو خدا تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ انسان کے سارے جسم پر حکومت کرے اس لئے جس طرح بے سر کی کوئی فوج کامیاب نہیں ہوسکتی اسی طرح بے سر کا کوئی انسان بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔“ ( الفضل 24 جون 1927ء ) 1: بخاری کتاب الصلح باب كيف يكتب هذا ما صالح فلان صفحہ 440 حدیث نمبر 2698 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 3،2:بخارى كتاب الشروط باب الشروط فى الجهاد في 450،449 حدیث نمبر 2732 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية