سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 334

سيرة النبي الله 334 جلد 2 صلى الله کفار کے مظالم کے مقابلہ میں رسول کریم علی کارد عمل عليسة دو صلى الله حضرت مصلح موعود 17 جون 1927ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔رسول کریم ہے کے زمانہ میں دشمنوں نے طرح طرح سے آپ کو دکھ دیئے۔آپ پر اتہام لگائے ، آپ کے ماننے والوں کو تنگ کیا، ان پر ظلم کئے لیکن رسول کریم نے صحابہ کو اس بات سے روک دیا کہ وہ ان کے مقابلہ میں اپنے ہاتھ ، اپنی زبان یا کان استعمال کریں۔اس وجہ سے صحابہؓ نے دشمنوں کے مقابلہ میں اپنے ہاتھ نہ استعمال کئے ، ان کو گالیاں نہ دیں، ان سے غصہ کے چہرے نہ بنائے اور اگر چہرہ بنایا گیا تو اسلام نے اسے ناپسند کیا۔اور یہی کہا کہ دشمنوں کے مظالم کے مقابلہ میں تمہارے چہروں پر مسرت اور زبانوں پر خوشی کے کلمات ہوں اور تمہارے ہاتھ ان کی بہتری کے لئے کام کریں۔چنانچہ صحابہ نے جو کام کیا وہ یہ تھا کہ انہوں نے تبلیغ اسلام پر زور دیا۔ان کے لئے خدا تعالیٰ کی نصرت آئی۔لیکن اس کے لئے انہیں تدبیریں کرنی پڑیں۔حدیثوں میں آتا ہے جب تک مسلمانوں کو غلبہ حاصل نہیں ہوا اُس وقت تک انہوں نے کفار کے ہاتھوں کا کھانا نہ کھایا اور سالہا سال تک ان کا کھانا منع رہا۔اس کی یہ تھی کہ گو کفار کی تعداد ان سے زیادہ تھی اور کفار بہت طاقتور بھی تھے تو بھی انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ جو کچھ لینا ہو گا مسلمانوں سے ہی لیں گے۔اگر اس تدبیر پر عمل نہ کیا جاتا اور مسلمان کفار سے خرید وفروخت کرنے سے نہ رکتے تو مسلمان بالکل کنگال اور