سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 335
سيرة النبي ع 335 جلد 2 بے حال ہو جاتے۔پس اُس وقت رسول کریم علیہ نے ان سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ دشمنوں سے لڑو، ان کو گالیاں دو، ان پر غصہ کا اظہار کرو بلکہ یہ کہا کہ جو تد بیر تمہاری تباہی کی یہ کر رہے ہیں کہ تمہارا بائیکاٹ کر رکھا ہے یہی تم بھی ان کے متعلق کرو۔اس کا نتیجہ کم از کم یہ تو ہو گا کہ مسلمانوں کی دولت مسلمانوں کے ہی گھروں میں رہے گی۔چنانچہ اس طرح مسلمانوں کے اموال محفوظ رہے۔اسی طرح اور جس قدر معاملات رسول کریم صلى الله ے کے زمانہ میں ہوئے ان میں آپ نے اسی احتیاط سے کام لیا۔صلح حدیبیہ کے وقت جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو حضرت علی نے رسول کریم علی کی طرف سے لکھا کہ محمد رسول اللہ یوں کہتا ہے۔کفار نے اس پر اعتراض کیا کہ ہم تو انہیں رسول نہیں سمجھتے۔اگر رسول سمجھتے تو لڑتے کیوں۔اس لئے رسول اللہ کے الفاظ نہ ہوں۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ کاٹ دو۔حضرت علیؓ نے کہا مجھ سے تو یہ نہیں ہوسکتا۔آپ نے فرمایا لاؤ میرے پاس اور آپ نے انگوٹھے سے وہ الفاظ مٹا دیئے 1 اور کفار کی بات مان لی۔اس طرح ان کو اس تدبیر میں لے آئے جو بالآخران کی تباہی کا موجب ہو گئی۔اور وہ یہ تھی کہ کفار نے چاہا تھا کہ مکہ سے جولوگ اسلام قبول کریں وہ رسول کریم ﷺ کے پاس مدینہ نہ جائیں اور اگر جائیں تو آپ ان کو واپس بھیج دیں۔بظاہر یہ ایک ہلاکت کی بات نظر آتی ہے مگر رسول کریم ﷺ نے اسے منظور کر لیا۔اس سے صحابہ میں جوش پیدا ہوا کہ اس شرط کا قبول کرنا مسلمانوں کی ہتک ہے کیونکہ معاہدہ یہ قرار پایا تھا کہ اگر کوئی مرتد ہو جائے تو اسے مکہ واپس آ جانے کی اجازت ہو۔لیکن اگر کوئی مسلمان ہو جائے تو وہ مسلمانوں کے پاس مدینہ نہ جائے اور اگر جائے تو اسے واپس بھیج دیا جائے۔صحابہ کو اس پر بہت جوش آیا مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو کافر ہو جائے اسے ہمیں کیا کرنا ہے جہاں چاہے چلا جائے۔اور جو مسلمان ہو گا وہ جہاں ہوگا وہیں تبلیغ کرے گا اس لئے جو مسلمان مکہ میں رہیں گے وہ اوروں کو مسلمان بنا ئیں گے 2۔