سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 332

سيرة النبي ع 332 جلد 2 وہ ضرور ہی قید ہوں۔ہو سکتا ہے کہ وہ قید نہ ہوں کیونکہ صوبہ کی عدالت عالیہ کا ابھی ایک فیصلہ ہو چکا ہے جس میں ایک ایسا ہی شخص بری کر دیا گیا ہے اور اگر ماتحت عدالتیں انہیں قید بھی کر دیں تو ممکن ہے کہ ان کے فیصلہ کے خلاف اپیل ہو اور وہ کسی ایسے حج کے سامنے پیش ہو جو اس مضمون کے متعلق یہی سمجھتا ہو کہ اس سے منافرت پیدا نہیں ہوتی تو ایسا حج پھر یہی فیصلہ کر دے گا جو صوبہ کے اعلیٰ حاکم نے حال ہی میں کیا اس لئے ہمارے لئے اس وقتی خوشی میں فائدہ نہیں۔الله اگر ہم رسول کریم ﷺ سے محبت رکھتے ہیں تو ہماری خوشی اس میں ہونی چاہئے کہ ہم دنیا سے رسول کریم ﷺ کی نسبت شکوک وشبہات کو دور کرنے میں کامیاب ہوں۔سچی محبت قربانی کا مطالبہ کرتی ہے۔کسی شخص کے قید ہو جانے میں ہم کون سی قربانی کرتے ہیں۔قید گورنمنٹ کراتی ہے۔پس اس فعل میں اگر کوئی خوبی ہے تو اس کی مستحق گورنمنٹ ہے نہ کہ مسلمان۔مسلمان تب ہی سرخرو ہو سکتے ہیں جب کہ وہ رسول کریم ﷺ کی محبت کا عملی ثبوت دیں اور آپ علیہ کی عزت کے قیام کے لئے اپنے اوقات اور اپنے اموال خرچ کر کے دکھا ئیں۔جو شخص صرف کسی کے قید ہونے صلى الله پر تسلی پا جاتا ہے اور رسول کریم ﷺ کی عزت کے قیام کے لئے خود کوئی کوشش نہیں کرتا وہ اپنے محبت کے دعوئی میں جھوٹا ہے اور اس کی محبت کی خدا تعالیٰ کے نزدیک اور اہل دل کی نگاہ میں ایک ذرہ بھر قدر نہیں۔پس میں عام مسلمانوں کو عموماً اور اپنی جماعت کے لوگوں سے خصوصاً کہتا ہوں کہ ہمیں یہ مقصد سامنے رکھنا چاہئے کہ اسلام پھیلے اور آنحضرت ﷺ کی براءت ہو۔قطع نظر اس بات کے کہ وہ اشخاص قید ہوتے ہیں یا نہیں ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ انہوں نے گالیاں تو دے لیں اور یہ گالیاں اب واپس نہیں ہوسکتیں۔اس لئے بجائے اس کے کہ ہم یہ دیکھیں کہ وہ قید ہوتے ہیں یا نہیں ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ لوگوں کے خیالات کو تبدیل کریں۔اور میں کئی بار اعلان کر چکا ہوں کہ وہ کوشش