سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 325

سيرة النبي ع 325 جلد 2 وہ ایک یا ایک سے زیادہ آدمی کھڑے ہو کر بے نقط گالیاں رسول کریم ﷺ کو نکا لنے لگ جاتے۔مسلمان ان کی تدبیر سے واقف نہ تھے بعض جو شیلے نو جوان ان کو قتل کر دیتے تو وہ سب ملک میں شور مچا دیتے کہ دیکھو اس طرح ظالمانہ طور پر مسیحیوں کو مارا جاتا ہے۔اس کارروائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب قوم بیدار ہو گئی اور اس میں ایک آگ بھڑک اٹھی اور اس جوش سے فائدہ اٹھا کر مسیحی ریاستوں نے مسلمانوں کو جو پہلے ہی کمزور ہو رہے تھے ملک سے نکال دیا۔یہی تدبیر مذکورہ بالا قسم کی ہندو مصنفین استعمال کر رہے ہیں۔ہ مسلمانوں کو اس قدر جوش دلانا چاہتے ہیں کہ مسلمان آپے سے باہر ہو کر خونریزی پر اتر آئیں اور اس طرح انہیں اپنی سنگھٹن میں مدد ملے۔لیکن کیا مسلمان اس دھو کے میں آئیں گے؟ آخر سوامی شردھانند کے قتل سے اسلام کو کیا فائدہ ہوا؟ خونریزی ہرگز کوئی نفع نہیں دے سکتی۔وہ اخلاقی اور تمدنی طور پر قوم کو سخت نقصان پہنچاتی ہے۔پس مسلمانوں کو اس قسم کی تحریروں سے ضرور واقف ہونا چاہیئے لیکن اپنے جوشوں کو دبا کر غیرت پیدا کرنی چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ آخر رسول کریم ﷺ پر اس قدر شدید حملوں کی ہندوؤں کو جرات کیوں ہوئی ہے؟ اگر وہ اس امر پر غور کریں گے تو انہیں معلوم ہو گا کہ اس کا سبب صرف یہی ہے کہ ان کے نزدیک مسلمان آپ کے ناخلف فرزند ہیں۔پس وہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں رسول کریم ﷺ کی عزت کی حفاظت کی جرات نہیں۔پس اگر مسلمان رسول کریم ﷺ کی محبت کا دعویٰ رکھتے ہیں تو ان کا صل الله فرض ہے کہ وہ ہند و قوم پر ثابت کر دیں کہ وہ رسول کریم ﷺ کی عزت کے قیام کے لئے ہر اک قربانی کے لئے تیار ہیں۔اور اگر وہ اس امر کے لئے تیار ہوں تو انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس قسم کے حملوں کا دفعیہ صرف اورصرف تین طرح ہوسکتا ہے۔(1) اپنی عملی حالت کی اصلاح سے۔تا کہ ہمارے عمل کو دیکھ کر ہر اک دشمن اسلام یہ کہنے پر مجبور ہو کہ جس استاد کے یہ شاگرد ہیں اس کی زندگی کیا ہی شاندار اور مزکی ہوگی۔(2) تبلیغ کے ذریعہ سے۔تا کہ جو لوگ گالیاں دینے والے ہیں ان کی تعداد