سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 324
سيرة النبي الله 324 جلد 2 ہوسکتی جو رسول کریم ﷺ کو گالیاں دینے والے ہیں۔بیشک وہ قانون کی پناہ میں جو کچھ چاہیں کر لیں اور پنجاب ہائیکورٹ کے تازہ فیصلہ کی آڑ میں جس قدر چاہیں ہمارے صل الله رسول مہ کو گالیاں دے لیں لیکن وہ یا درکھیں کہ گورنمنٹ کے قانون سے بالا ایک اور قانون بھی ہے اور وہ خدا کا بنایا ہوا قانونِ فطرت ہے۔وہ اپنی طاقت کی بنا پر گورنمنٹ کے قانون کی زد سے بچ سکتے ہیں لیکن قانونِ قدرت کی زد سے نہیں بچ سکتے۔اور قانونِ قدرت کا یہ اٹل اصل پورا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جس کی ذات سے ہمیں محبت ہوئی ہے اسے برا بھلا کہنے کے بعد کوئی شخص ہم سے محبت اور صلح کی توقع نہیں رکھ سکتا۔اور اب جبکہ ہند و صاحبان کی طرف سے ہمارے رسول پاک کی اس قدر ہتک کی گئی ہے کہ جس کا واہمہ بھی آج سے پہلے ہمیں نہیں ہوسکتا تھا اور جبکہ باقی قوم نے ان لوگوں کو ملامت نہیں کی بلکہ ان کا ساتھ دیا ہے تو اب مسلمانوں سے اُس وقت تک صلح کی امید رکھنی اور محبت کی توقع رکھنا بالکل فضول اور عبث ہے جب تک یہ لوگ اپنے افعال پر ندامت کا اظہار نہ کریں۔آہ! میں انسانی فطرت کے اس نا پاک اظہار کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ ہم لوگ تو ہند و رشیوں اور ہندو بزرگوں کا ادب کرتے اور ان کا احترام کرتے ہیں اور انہیں خدا تعالیٰ کا برگزیدہ تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ لوگ ہمارے آقا اور سردار کے متعلق اس قسم کے گندے الفاظ استعمال کرتے ہیں اور اس ناپاک فعل سے ذرا بھی نہیں شرماتے۔مگر میرے نزدیک اس میں ان کا قصور نہیں۔وہ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں اب غیرت نہیں رہی۔وہ کبھی کبھی بیجا جوش تو دکھا بیٹھتے ہیں لیکن غیرت جو مستقل عمل کو ابھارنے والی ہے ان میں کم ہے اس لئے وہ دلیر ہو رہے ہیں اور وہی تدابیر اختیار کر رہے ہیں جو سپین میں مسیحیوں نے اختیار کی تھیں۔اور وہ یہ تھیں کہ جب انہوں نے ارادہ کر لیا کہ سپین سے مسلمانوں کو نکال دیا جائے تو انہوں نے اپنی قوم کو ابھارنے کے لئے یہ طریق اختیار کیا کہ بعض لوگ مساجد میں مسلمانوں کا لباس پہن کر چلے جاتے اور جب مسلمان جمع ہو جاتے تو