سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 326
سيرة النبي عل الله 326 جلد 2 خود بخود کم ہونے لگے اور جو پہلے گالیاں دیتے تھے اب درود پڑھنے لگیں۔مکہ کے لوگوں کی گالیاں کس طرح دور ہوئیں؟ اسی طرح کہ وہ اسلام کو قبول کر کے درود بھیجنے لگے۔پس اب بھی اس دریدہ دہنی کا یہی علاج ہوسکتا ہے۔اس تدبیر سے ہراک شریف الطبع تو اسلام کی خوبیوں کا شکار ہو جائے گا اور شریر الطبع جن کو اپنی تعداد پر گھمنڈ ہے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر خود ہی ان طریقوں سے باز آجائیں گے۔(3) تیسرا طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی تمدنی حالت کو درست کیا جائے۔ان ہند و مصنفین کو اس امر پر بھی گھمنڈ ہے کہ ان کی قوم دولتمند ہے اور گورنمنٹ میں اسے رسوخ حاصل ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ یہ بات سچی ہے۔مگر اس کی وجہ خود مسلمانوں کی غفلت ہے۔مسلمان جو کچھ کماتے ہیں اسے خرچ کر دیتے ہیں اور اکثر ہندوؤں کے مقروض ہیں اور ایک ارب کے قریب روپیہ سالانہ مسلمان ہندوؤں کو سود میں ادا کرتے ہیں اور اشیائے خوردنی کی خرید میں اس کے علاوہ روپیہ ادا کرتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندو لوگ روز بروز دولتمند ہورہے ہیں اور مسلمان روز بروز گر رہے ہیں۔وہ طاقتور ہو رہے ہیں اور یہ کمزور۔پنجاب جہاں ایک ہندو کے مقابلہ میں دو مسلمان ہیں وہاں بھی ہندوؤں کے دس روپیہ کے مقابلہ میں مسلمانوں کے پاس بمشکل ایک ہے اور ملازمتوں میں بھی دو دو تین تین ہندوؤں کے مقابلہ میں ایک ایک مسلمان بمشکل ملتا ہے۔پس اس حالت کو بدلنا مسلمانوں کا اہم فرض ہے۔ہراک جو رسول کریم ﷺ سے محبت رکھتا ہے جو چاہتا ہے کہ آپ کو گالیاں نہ دی جائیں اس کا فرض ہے کہ بجائے وحشت دکھا کر اسلام کو بدنام کرنے کے صحابہ کرام کی طرح غیرت دکھائے اور دائمی قربانی سے اسلام کو طاقت دے۔ہر اک مسلمان کو چاہئے کہ جس طرح ہندو مسلمانوں سے چُھوت کرتے ہیں وہ بھی ہندوؤں سے چُھوت کرے اور سب کھانے کی چیزیں مسلمانوں ہی کے ہاں سے خریدے۔اور دوسری اشیاء کے لئے