سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 323

سيرة النبي عل الله 323 جلد 2 اور حضرت زینب کے نکاح کے واقعہ کی طرف اشارہ کر کے افترا اور جھوٹ کی نجاست پر منہ مار کر اور اصل واقعات کو بگاڑ کر رسول کریم ﷺ اور امہات المومنین صلى الله رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ کو ایسی گندی گالیاں دی گئی ہیں کہ شاید ایک چوڑھا بھی اس قسم کی گالیاں دینے سے دریغ کرے گا۔لیکن ان دشمنانِ اسلام کو آج ہماری ساری قوم کا اس قدر بھی پاس نہیں رہا جس قدر کہ ایک معمولی آدمی کے احساسات کا ہوتا ہے اور اس قسم کے مصنفین میں اس قدر بھی شرافت نہیں رہی جس قدر کہ ایک چوڑھے میں ہوتی ہے۔کیا اس سے زیادہ اسلام کے لئے کوئی اور مصیبت کا دن آ سکتا ہے؟ کیا اس سے زیادہ ہماری بے کسی کوئی اور صورت اختیار کر سکتی ہے؟ کیا ہمارے ہمسایوں کو یہ معلوم نہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ فَدَتْهُ نَفْسِی وَ اَهْلِی کو اپنی ساری جان اور سارے دل سے پیار کرتے ہیں اور ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ ان پاکبازوں کے سردار کی جوتیوں کی خاک پر بھی فدا ہے؟ اگر وہ اس امر سے واقف ہیں تو پھر اس قسم کی تحریرات سے سوائے اس کے اور کیا غرض ہو سکتی ہے کہ ہمارے دلوں کو زخمی کیا جائے اور ہمارے سینوں کو چھیدا جائے اور ہماری ذلت اور بے بسی کو نہایت بھیانک صورت میں ہماری آنکھوں کے سامنے لایا جائے اور ہم پر ظاہر کیا جائے کہ مسلمانوں کے احساسات کی ان لوگوں کو اس قدر بھی پرواہ نہیں جس قدر کہ ایک امیر کبیر کو ایک ٹوٹی ہوئی جوتی کی ہوتی ہے۔لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کیا مسلمانوں کو ستانے کے لئے ان لوگوں کو کوئی اور راستہ نہیں ملتا ؟ ہماری جانیں حاضر ہیں، ہماری اولادوں کی جانیں حاضر ہیں، جس قدر چاہیں ہمیں دکھ دے لیں لیکن خدا را نبیوں کے سردار محمد مصطفی ﷺ کو گالیاں دے کر ، آپ کی ہتک کر کے اپنی دنیا اور آخرت کو تباہ نہ کریں کہ اس ذات بابرکات سے ہمیں اس قدر تعلق اور وابستگی ہے کہ اس پر حملہ کرنے والوں سے ہم کبھی صلح نہیں کر سکتے۔ہماری طرف سے بار بار کہا گیا ہے اور میں پھر دوبارہ ان لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری جنگل کے درندوں اور بن کے سانپوں سے صلح ہو سکتی ہے لیکن ان لوگوں سے ہر گز نہیں