سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 322

سيرة النبي علي 322 جلد 2 66 اللہ مجھے بخشو۔کئی سالوں سے عذاب میں مبتلا ہوں۔میری شفاعت کرو۔“ میں نے کہا ”مہامند ! تم تو خود کو شفیع کہا کرتے تھے اب میری شفاعت کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ مہامند نے جواب دیا۔”یا حبیب اللہ! میں آپ سے وعدہ کر کے پھر گیا۔۔۔۔خدا کے نام پر ان سب عورتوں کی عصمت دری کی۔۔۔۔اب رحم کیجئے۔خطا معاف کیجئے۔میری شفاعت کیجئے۔‘ میں : ” یہ امر ناممکن ہے خدا کی سزا میں کمی بیشی میرے احاطہ اختیار سے باہر ہے۔میں شفیع نہیں ہوں۔‘‘ بڈھا مایوس ہو کر بیہوش ہو گیا۔تب اس لڑکی اور ایک عورت نے میرے پاؤں پکڑ لئے۔۔۔۔میں نے لڑکی کا سر اٹھا کر کہا "آشہ تم کیوں اضطراب میں ہو تمہارا خاوند تو شفیع ہے۔“ آشہ: ” ! يا حبيب الله ! کیا اپنی نفسانی خواہشات کی آگ، خدا کے نام پر کثیر التعداد عورتوں کی عصمت دری کرنے والا انسان بھی شفیع ہو سکتا ہے اور جس کی جان نزع کے وقت آسانی سے نہیں نکلتی تھی میری جوٹھی مسواک کے تھوک سے جس کی تکلیف کم ہوئی تھی وہ میرا شفیع نہیں ہو سکتا۔اب میں بخوبی سمجھتی ہوں۔“ میں : ”لیکن آشتہ تمہارا گناہ بھی نا قابل معافی ہے۔مہامند کے مرنے کے بعد علم ہو جانے پر تمہیں یہ راز طشت از بام کر دینا چاہئے تھے مگر تم نے دنیا کی حرص میں اس کی تبلیغ کی اس لئے اور سزا بھگتو۔اس کے بعد دوسری عورت بولی۔لیکن حضور! میں قطعی بے قصور ہوں۔میں اپنے خاوند کی خوشی سے ان کی نفس پرستی کا شکار ہوئی۔‘ میں : جبھی کیوں جھوٹ بولتی ہے مہامند تیرا سسر تھا تو نے اپنے خاوند جنت کو کیوں نہ بتایا کہ عالم بالا کے فرشتوں کے سامنے شادی ہونے کا دعویٰ بالکل غلط ہے اور صریح دھوکا ہے۔تو بھی مقررہ میعاد تک عذاب کا مزہ چکھ۔آگے حضرت علیؓ کے متعلق بھی لکھا ہے لیکن میں اسے نہیں سمجھا اس لئے اسے چھوڑتا ہوں۔ہر اک مسلمان اس امر کو سمجھ سکتا ہے کہ اس افسانے کے پردہ میں رسول کریم ہے کی وفات کے واقعہ، حضرت عائشہ کے آپ ع کو مسواک چبا کر دینے کے واقعہ