سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 321
سيرة النبي الله 321 جلد 2 66 یہ تازہ حملہ رسول کریم ﷺ کی ذات بابرکات پر ایک مضمون کی صورت میں رساله ورتمان امرتسر میں شائع ہوا ہے۔اس کا لکھنے والا کوئی دیوی شرن شرما ہے جس نے ایک ڈرامہ کی صورت میں معراج نبوی کی نقل میں ایک مضمون شائع کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اس میں ”محمد“ کی بجائے ”مہامند کر کے بیان کیا ہے اور حضرت عائشہ کا نام بگاڑ کر’ آشہ“ لکھا ہے اور حضرت زینب کا نام ”جنبھی اور حضرت علی کا نام "مرتضی سے بگاڑ کر مرتیو نجا“ رکھ دیا ہے مگر ان ناموں کے بگاڑنے سے بھی تمسخر مراد ہے۔یہ کوشش مقصود نہیں کہ مسلمان حقیقت کو نہ سمجھیں اور ان کا دل نہ دکھے کیونکہ جو واقعات اس قصہ میں بیان ہیں وہ سب کے سب اس طرح بیان کئے گئے ہیں کہ ہر اک شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی گالیاں دی گئی ہیں اور کوئی خیالی قصہ مذکور نہیں ہے۔شروع میں مضمون نگار نے لکھا ہے کہ ایک نورانی جسم آسمان کی سیر کرانے کے لئے میرے پاس آیا اور میرے لئے ایک سواری لا یا جسے دنیا کے لوگ سن سنا کر ” براق کہتے ہیں۔میں اس سواری میں بیٹھ کر پہلے جنت کی سیر کے لئے گیا۔وہاں میں نے سری رامچند ر، سری کرشن ، شنکر آچاریہ، دسوں گورو اور پنڈت دیانند، پنڈت لیکھر ام اور سوامی شردھانند کو دیکھا۔اس کے بعد وہ لکھتا ہے کہ میں نے دوزخ کے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور وہاں میں نے دیکھا کہ ایک دراز ریش بڑھا، برہنہ بدن آگ میں تپی ہوئی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، بہت سی بر ہنہ عورتیں اس کے گرد حلقہ کئے تھیں جو نہایت ہی حسین تھیں مگر بدن زخموں کی کثرت سے چھلنی ہو رہے تھے جن سے پیپ بہہ رہی تھی۔پیاس کی شدت سے بڑھے کی زبان لٹک رہی تھی۔پانی نایاب تھا اس لئے بار بار وہی پیپ پیتا تھا لیکن پیاس نہ بجھتی تھی۔وہاں اور بھی مرد د عورت تھے۔لیکن بڑھے کے نزدیک ایک سب سے زیادہ حسین لڑکا اور ایک نوجوان بیٹھے تھے۔پھر لکھتا ہے کہ میرے پہنچنے پر بڑھا میرے پاؤں پر گر کر بولا وو