سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 320

سيرة النبي ع 320 جلد 2 ناواقفوں نے اس کا نام بے ادبی رکھا اور اس کے خلاف شور مچایا حالانکہ کفار کی گالیوں کو قرآن کریم بھی نقل کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے زیادہ رسول کریم ﷺ کی عزت کی نگہداشت رکھنے والا اور کون ہوگا۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اس گہری عداوت کی رو سے جو اندر ہی اندر مختلف مذاہب کے پیروؤں کے دلوں میں پیدا کی جا رہی تھی ناواقف رہے اور جبکہ دوسری اقوام اسلام کی دشمنی کے خیالات میں پل کر ہوشیار ہو رہی تھیں مسلمان غفلت کی نیند سو رہے تھے اور انہیں معلوم نہ تھا کہ دوسری اقوام کے دلوں میں ہماری نسبت کیا خیالات پیدا کئے جا رہے ہیں۔ان فتنہ انگیز مصنفوں کی جرات بھی اس غفلت کی وجہ سے بڑھتی گئی اور آخر رنگیلا رسول، مسلمانوں کا خدا اور و چتر جیون جیسی کتب شائع ہونے لگیں جو زبان درازی اور فحش کلامی میں پہلی کتب سے بھی سبقت لے گئیں۔اگر مسلمان پہلے ہی ہوشیار ہو جاتے ، اگر وہ پہلے ہی اس مرض کے علاج کی طرف توجہ کر لیتے تو یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔مگر افسوس کہ علاج سے بے پرواہی کی گئی اور باطل پرستی کی روح اور بھی دلیر ہوگئی اور اس نے مذکورہ بالا کتب سے بھی بڑھ کر قدم مارا۔پہلے تجربہ کی بنا پر یہ یقین کر لیا گیا کہ مسلمان کا دل لوہے کا ہے، اس کا کلیجہ پتھر کا ہے ، وہ ہر اک حملہ کو برداشت کر سکتا ہے، اس کی غیرت قصہ ماضی ہو چکی ہے اور اس کا عزم حکایت گزشتگان بن چکا ہے۔چنانچہ آج مجھے اس تازہ حملہ کو مسلمانوں کے سامنے رکھنے کا نا خوشگوار فعل ادا کرنا پڑا ہے۔ممکن ہے بعض لوگ مجھے بھی گالیاں دیں کہ میں نے دشمن کے اقوال نقل کر کے رسول کریم ﷺ دَتْهُ نَفْسِی وَ اَهْلِی کی بنک کی ہے۔لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ گو لوگ مجھے گالیاں ہی دیں لیکن ہر اک شخص جو رسول کریم ﷺ کی محبت کا ایک ذرہ بھی دل میں رکھتا ہے وہ اس حملہ کی حقیقت کو معلوم کر کے بیدار ہو جائے گا۔پس میں اس ذلت کو جو رسول کریم ﷺ کی عزت کے قیام کے لئے اور مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے کی خاطر برداشت کرنی پڑے بخوشی قبول کرتا ہوں۔