سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 316

سيرة النبي عالم 316 جلد 2 مکہ کی حفاظت کی اہمیت ہندو جب مکہ پر اپنا جھنڈا گاڑ نے کے خواب دیکھ رہے تھے حضرت مصلح موعود نے 13 مئی 1927ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔وو پس جب کوئی قوم یہ کہتی ہے کہ وہ مکہ پر اپنا مذہبی جھنڈا گاڑے گی تو دوسرے لفظوں میں اس کا یہ مطلب ہے کہ ایک مسلمان کو بھی دنیا میں زندہ نہ چھوڑے گی اور ایک بھی اسلامی حکومت نہ باقی رہنے دے گی۔کیونکہ جب تک کوئی اسلامی حکومت باقی ہو یا ایک ہی سچا مسلمان زندہ ہو اپنی جان دے دے گا مگر زندہ رہ کر کبھی گوارا نہ کرے گا کہ مکہ پر اوم کا جھنڈا کسی کو گاڑنے دے۔پس جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ یہ کوئی مذہبی سوال نہیں اگر یہ مذہبی سوال ہوتا تو مختلف مذاہب والے جن میں ایک دوسرے سے زمین و آسمان کا فرق ہے وہ مسلمانوں کے خلاف کیوں مل جاتے۔دراصل یہ سیاسی سوال ہے۔ورنہ جینیوں اور سکھوں کا ہندوؤں سے کیا تعلق !! یہ لوگ اسلام کی نسبت ہندو مذہب کے زیادہ دشمن ہیں۔ان کے اتحاد سے یقیناً معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذہبی سوال نہیں بلکہ سیاسی ہے۔پس اوم کے جھنڈے سے مراد اوم کا جھنڈا نہیں بلکہ ہندوؤں کی حکومت اور بنوں کی حکومت کا جھنڈا ہے جسے مکہ پر گاڑنا چاہتے ہیں۔اب میں پوچھتا ہوں ایسی حالت میں کسی اسلامی فرقہ کو جو دوسرے فرقہ کو کافر ہی سمجھتا ہو ا تحاد کرنے میں کیا عذر ہو سکتا ہے۔ہندوؤں کے ان ارادوں کا کہ مکہ پر اپنی حکومت کا جھنڈا گاڑنا ہے احمدی یا غیر احمدی، شیعہ یاسنی کے سوال سے کیا تعلق۔