سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 317
سيرة النبي عمال 317 جلد 2 فرض کر لوشیعیت ہی کچی ہے۔لیکن جب مکہ پر ہندوؤں کا جھنڈا جا گڑے گا تو کیا شیعیت باقی رہ جائے گی ؟ یا احمدیت سچی ہے ہمارے عقیدہ کی رو سے۔کیا وہ باقی رہ جائے گی ؟ یا اگر حنفیت سچی ہے تو وہ باقی رہ جائے گی؟ یاد رکھو کوئی اسلامی فرقہ بھی باقی نہیں رہ جائے گا سب مٹیں گے۔یہ کہہ دینا کہ مکہ کی حفاظت خدا کا کام ہے ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں سخت نادانی ہے۔کیا خدا کا کا م محمد علیہ کی حفاظت کرنا نہ تھا؟ اور کیا مکہ کی حفاظت کی طرح ہی قرآن کریم میں آپ کے متعلق نہیں آتا کہ واللہ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 1 پھر کیا صحابہؓ آپ کا پہرہ نہیں دیتے تھے ؟ حدیثوں سے پتہ لگتا ہے کہ ایک قبیلہ کے لوگ آتے اور آ کر آپ کا پہرہ دیتے۔حالانکہ اس وقت مدینہ پر اسلامی حکومت تھی اور ایسے جان نثار موجود تھے کہ جب جنگ بدر کے موقع پر رسول کریم اللہ نے مسلمانوں سے پوچھا تمہاری کیا منشاء ہے تو اُس وقت ایک صحابی نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ ! جو آپ کی مرضی وہی ہماری مرضی ہے۔ایک اور صلى الله مہاجر نے بھی یہی کہا۔اُس وقت تک انصار کم اور مہاجر زیادہ تھے اور رسول کریم ہے انصار کی رائے معلوم کرنا چاہتے تھے۔آپ نے فرمایا نہیں رائے دو۔میں رائے پوچھتا ہوں۔اُس وقت انصار نے سمجھا کہ ہم سے پوچھتے ہیں۔ابتدا میں ان سے ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں یہ شرط تھی کہ اگر دشمن مدینہ پر حملہ کرے گا تو ہم لڑیں گے لیکن مدینہ سے باہر جا کر نہیں لڑیں گے۔اب باہر جا کر لڑنا تھا اس لئے ان سے پوچھا گیا تھا۔ایک انصاری نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ ! وہ زمانہ اور تھا جب ہم نے آپ سے معاہدہ کیا تھا۔جب ہم نے آپ کو خدا کا سچا رسول مان لیا تو پھر معاہدہ کیسا۔آپ تو یہاں فرماتے ہیں اگر آپ کہیں تو ہم سمندر میں گھوڑے ڈال دیں گے 2۔آپ کے دائیں اور بائیں لڑیں گے اور آپ تک کوئی دشمن اُس وقت تک نہ پہنچ سکے گا جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ آئے گا 3۔پھر حدیثوں سے ثابت ہے سب سے بہا در صحابی وہ سمجھا جاتا تھا جو دورانِ جنگ