سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 309
سيرة النبي الله 309 جلد 2 جائیں۔یہ وہ کام ہے جس میں اگر مسلمان غفلت کریں تو رسول کریم ﷺ کو مقام محمود حاصل نہیں ہو سکتا۔باقی جو قیامت کے دن کا مقام محمود ہے وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور وہ تو آپ کو مل چکا ہے۔جو آپ کو ملنے والا ہے اور جو اذان اور نماز کے ساتھ تعلق رکھتا ہے وہ ساری دنیا کو تبلیغ کر کے آپ کے ثنا خوانوں میں داخل کرنا اور اپنی اصلاح کرنا ہے۔اذان تبلیغ کی قائم مقام ہے اور نماز اصلاح کی قائم مقام۔پس مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ ایک طرف تبلیغ کریں اور دوسری طرف اصلاح نفس۔پھر آنحضرت ﷺ اس مقام محمود پر پہنچ سکتے ہیں جو ہمارے اعمال سے تعلق رکھتا ہے۔تبلیغ ہو اور اس حد تک ہو کہ دنیا کے سب لوگ آپ کی تعریف کرنے والے ہو جائیں اور کوئی بھی برائی اور مذمت کرنے والا باقی نہ رہے۔پھر اصلاح نفس ہو اور اس درجہ تک ہو کہ دشمن اور سخت سے سخت مخالف بھی اگر ایک مسلمان کو دیکھیں تو اس کی تہذیب، اس کی شائستگی، اس کے تقویٰ ، اس کی طہارت اور اس کے تزکیہ کو دیکھ کر کہہ اٹھیں واہ واہ ! ! کیا ہی اچھا اور اعلیٰ نمونہ ہے۔اور مبارک ہے وہ استاد جس نے ان کو ایسا بنایا۔لیکن اگر تبلیغ نہ کی جائے تو آنحضرت ﷺ کی تعریف کرنے والوں کا دائرہ بہت محدود ہو جائے گا اور مذمت کرنے والوں کا دائرہ بہت بڑھ جائے گا۔اور جو تعریف کرنے والے ہوں گے ان میں سے بھی بہت مذمت کرنے والوں کی طاقت سے ڈر کر تعریف نہ کریں گے۔اس طرح آپ کی مذمت کرنے والے تو بڑھتے رہیں گے اور تعریف کرنے والے کم ہوتے جائیں گے۔اور جب تعریف کرنے والوں کی کمی ہو اور مذمت کرنے والوں کی کثرت تو کس طرح رسول کریم عملے کے متعلق کہا جا سکتا الله ہے کہ دنیا کے لحاظ سے آپ کو مقام محمود حاصل ہو گیا۔آنحضرت ﷺ کو مقام محمود تک پہنچانے کے دو ہی ذریعے ہیں اور وہ یہ کہ دوسروں میں تبلیغ اور اپنی اصلاح نفس۔جو شخص تبلیغ کو کمال درجے تک پہنچا تا ہے