سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 305

سيرة النبي عالم 305 جلد 2 برتری کے مقام کی طرف بلایا تو بھی اس کو اور برتری بخش۔یعنی ایک تو اس کو اپنا ذاتی قرب عطا کر اس لئے کہ اس نے ہمارے لئے تیرے قرب کی راہیں کھولیں اور دوسرے اس کا مرتبہ بلند کر کیونکہ ہمارے لئے اس نے بلند مرتبہ پانے کا راستہ قائم کیا۔پس تو اس کو وہ مقام دے جس پر آج تک اور کوئی نہ پہنچا ہو اور وہ مقام مقامِ محمود ہی ہے۔یہ اس دعا کا مطلب ہے جو ہر مسلمان اذان کے بعد پڑھا کرتا ہے۔ادھر مسلمانوں کے شاعر فخریہ کہا کرتے ہیں ہم اس رسول کے ماننے والے ہیں جسے خدا نے مقام محمود عطا کیا۔مسلمانوں کے خطیب منبروں پر کھڑے ہو کر کہا کرتے ہیں رسول کریم ﷺ کو وہ مقام ملا جو دوسرے انبیاء کو نہیں ملا۔لیکن عجیب بات ہے باوجود اس کے کہ روزانہ کئی کئی مرتبہ اس دعا کو پڑھتے ہیں جس میں رسول کریم ﷺ کے مقام محمود پانے کا ذکر ہے لیکن انہوں نے بھی نہیں سوچا کہ مقام محمود ہے کیا۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ احمدی اذان کے بعد دعا نہیں مانگتے حالانکہ یہ غلط ہے۔احمدی دعا مانگتے ہیں اور احمدیوں سے بڑھ کر کوئی اور دعائیں مانگنے والا نہیں۔ہاں وہ بناوٹ کے طور پر دعائیں نہیں کیا کرتے کہ الفاظ تو رئیں اور مطلب نہ سمجھیں۔وہ دعا کرتے ہیں اور مطلب و مفہوم سمجھ کر کرتے ہیں۔مگر وہ لوگ جو اعتراض کرتے ہیں کہ احمدی اذان کے بعد دعا نہیں پڑھتے ان کی اپنی یہ حالت ہے کہ وہ اس دعا کے مفہوم پر غور نہیں کرتے اور صرف رسم کے طور پر لفظوں کو طوطے کی طرح رہتے ہیں۔اتنا تو سوچنا چاہئے آخر وجہ کیا ہے کہ اسلام اور نماز کا واسطہ دے کر یہ دعا مانگی جاتی ہے۔اگر اس کا نماز کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں تو ایسے موقع کے لئے اسے کیوں رکھا گیا جبکہ نماز کے لئے لوگوں کو پکارا جاتا ہے۔پھر اگر وہ مقام محمود جنت کا کوئی مقام جو اللهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلوةِ الْقَائِمَةِ اتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ ہے