سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 281
سيرة النبي ع 281 جلد 2 بن گئے اسی طرح وہ درخت بھی شعائر اللہ بن گیا جس کے نیچے آنحضرت عے کے ہاتھ پر حدیبیہ کے موقع پر بیعت کی گئی۔پس ان مقامات پر جہاں جہاں خدا کا نشان ظاہر ہوا جانے سے ایک شخص کے دل میں روحانیت پیدا ہوتی ہے۔اس کے ایمان میں تازگی آتی ہے۔اس کے اندر خشیت اللہ پیدا ہو جاتی ہے۔وہ نصیحت کا اگر موقع ہو تو نصیحت پکڑتا ہے اور عبرت کا اگر موقع ہو تو ان سے عبرت حاصل کرتا ہے۔اگر کسی کو اس کے ساتھ اتفاق نہیں اور وہ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ان مقامات سے یہ فوائد حاصل ہوتے ہیں تو کیا وہ اس بات سے بھی انکار کر سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قبروں پر جایا کرو تا عبرت حاصل ہو 3۔پھر قبروں پر دعائیں مانگنے کے لئے بھی فرمایا ہے اور حدیثوں سے ثابت ہے کہ آپ قبروں پر جا کر دعائیں کیا کرتے تھے 4۔رسول اللہ یہ مشرک نہیں تھے۔آپ تو شرک مٹانے کے لئے آئے تھے اور آپ نے ایسا ہی کیا۔پس آپ کا ایسا کرنا ضرور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کام شرک نہیں بلکہ اس سے روحانیت بڑھتی اور خشیت اللہ پیدا ہوتی ہے کیونکہ قبروں پر جا کر جب انسان یہ دیکھتا ہے کہ یہ انجام ہے انسان کا تو اسے عبرت حاصل ہوتی ہے کہ ایک دن میرا بھی یہ انجام ہوگا۔اس سے اس کے دل میں خدا کا خوف پیدا ہو جاتا ہے۔بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ ایک انسان جو اپنی طاقت اور اپنی دولت کے لحاظ سے فرعون بنا پھرتا ہے جب وہ قبروں میں سے گزرتا ہے تو اسے اپنا انجام یاد آ جاتا ہے اور وہ فرعونیت کو چھوڑ دیتا ہے۔یا اس پر کسی کی نصیحت کا اثر نہیں ہوتا تھا یا یہ حال ہوتا ہے کہ اس کے دل میں خشیت خدا پیدا ہو جاتی ہے۔اس کا دل نرم ہو جاتا ہے اور وہ ان سب چیزوں کو فانی اور اپنی ہستی اور زندگی کو زوال پذیر سمجھ کر خدا کے آگے جھک جاتا ہے اور ایسی عبرت حاصل کرتا ہے کہ اس کے اندر ایک حیرت ناک تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔پس یہ ثابت شدہ بات ہے کہ ایسے مقامات کا اثر انسان کی طبیعت پر ہوتا ہے۔