سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 282
سيرة النبي الله 282 جلد 2 حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ آنحضرت عليه مع صحابہ جب اس مقام پر سے گزرے جہاں قوم ثمود پر عذاب نازل ہوا تھا تو فرمایا اس رستہ سے نہ گزرو۔اور اگر گزرتے ہو تو روتے ہوئے گزرو۔اور اگر کسی نے اس حصہ کے پانی سے آٹا گوندھ لیا ہے تو اسے پھینک دو کیونکہ یہاں خدا کا عذاب نازل ہوا تھا 5۔اس سے ظاہر ہے کہ اس جگہ سے جہاں خدا کا عذاب نازل ہوا آپ نے اسی طرح خوف کھایا جس طرح کہ آپ علیہ نے اس جگہ سے خوشی حاصل کی جہاں خدا کا جلال ظاہر ہوا۔اب اگر کوئی کہے کہ جگہوں میں کیا گھس گیا ہے کہ ان کی طرف خاص توجہ کی جائے اور ان کا احترام کیا جائے تو یہ اس کی غلطی ہو گی۔اسے نہیں معلوم کہ خدا تعالیٰ نے اپنی مصلحتوں کے ماتحت انہیں اپنے بعض نشان دکھانے کے لئے مخصوص کر لیا اور ان میں سے بعض کو شعائر اللہ قرار دے دیا۔پس جب خدا تعالیٰ ان کو مخصوص کرتا ہے تو کیا بندہ کے لئے یہ ضروری نہیں کہ جس جگہ خدا کا جلال ظاہر ہو اُس جگہ کی عزت کرے اور جس جگہ پر اس کا غضب بھڑ کا اور عذاب نازل ہوا ہو اُس جگہ سے خوف کھائے۔خدا تعالیٰ جب خود بعض مقامات کو شعائر اللہ میں سے قرار دیتا ہے تو یہی بات اس امر کے لئے کافی ہے کہ شعائر اسلام کا احترام ضروری ہے۔پھر یہی نہیں کہ یونہی ان مقامات کا احترام ضروری قرار دیا گیا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت بھی ہے۔اور وہ حقیقت یہی ہے کہ ان میں اگر عبادت کی جائے تو به نسبت دوسرے مقامات کے ایک خاص لذت محسوس ہوتی ہے۔وہاں جب ایک شخص جاتا ہے اور وہ جب اس بات کا خیال کرتا ہے کہ یہاں خدا کا جلال ظاہر ہوا تھا اور یہاں خدا نے اپنا نشان دکھایا تھا تو اس کے دل کی عجیب حالت ہو جاتی ہے۔ایک شخص جب خانہ کعبہ میں عبادت کرتا ہے تو اسے خیال آتا ہے کہ کجا یہ عظیم الشان شہر اور کجا وہ جنگل جہاں پانی کا نام ونشان نہ تھا۔وہ دیکھتا ہے کہ اس بے آب و گیاہ میدان میں کیونکر خدا نے یہ شہر بسایا۔تو کیا اس کے ایمان میں کوئی تازگی پیدا نہیں ہوتی ؟ اور