سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 280

سيرة النبي علي 280 جلد 2 اور دلوں میں روحانیت پیدا ہوتی ہے اس کا اعتراف اہلحدیث گروہ کو بھی ہوگا۔پس جو شخص اس کے پاس اس نیت سے جاتا کہ ایمان میں مضبوطی پیدا ہو اور خدا تعالیٰ کے جلال کے ظاہر ہونے کی جگہ کو دیکھنے سے روحانیت پیدا کرے میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک نیک کام کرتا۔پس میں یقین کرتا ہوں کہ جو کوئی بھی اس درخت کے پاس اسے شعائر اللہ سمجھ کر جاتا ہوگا وہ ایمان سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ لوٹتا ہوگا نہ کہ شرک کرتا ہوگا۔صفا اور مروہ اور بعض دوسرے مقامات شعائر اللہ میں سے ہیں اور جوان پر اعتراض کرتا ہے وہ ان پر اعتراض نہیں کرتا بلکہ قرآن کریم پر کرتا ہے۔کیونکہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ صفا اور مروہ کے متعلق فرماتا ہے کہ ان پر میرا نشان ظاہر ہوا اور یہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔یہاں حضرت ہاجرہ اکیلی دوڑی تھیں جہاں میلوں تک پانی نہ تھا۔اور اُس وقت جو بیقراری اور اضطراب انہیں تھا اس کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ ہاجرہ ! صبر کر تو نے میرے لئے وطن کو چھوڑا میں تیرے لئے یہاں پانی پیدا کرتا ہوں۔پس خدا نے اس مقام پر کہ جہاں سینکڑوں میلوں تک پانی نہ تھا حضرت ہاجرہ اور ان کے بچہ کے لئے ان کے اضطراب اور بے چینی کو دیکھ کر پانی پیدا کیا۔اور پانی پیدا نہیں کیا بلکہ اپنا نشان دکھلایا کہ میں قادر مطلق ہوں اور یہ میری قدرت میں ہے کہ میں ان مضطرب اشخاص کے لئے لق و دق میدان میں بھی کہ جہاں لوگ پیاس سے تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں اپنی قدرت سے پانی پیدا کرسکتا ہوں۔پس وہاں حضرت ہاجرہ اضطراب میں دوڑیں اور دوڑتے ہوئے اسی اضطراب کے ساتھ خدا تعالیٰ سے عرض بھی کرتی رہیں کہ تو ہی ہے جو کچھ کر سکتا ہے۔سوان کی یہ حالت زار خدا کے رحم کو جوش میں لانے والی ہوئی جس کے ذریعہ اس کا جلال دنیا پر آشکارا ہوا۔پس وہاں کا تو پتھر اک نشان ہے اور پھر ان پہاڑیوں کے متعلق تو خود خدا نے بھی فرما دیا ہے کہ وہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔اب جس طرح صفا و مروہ پر خدا کا نشان ظاہر ہوا اور وہ شعائر اللہ۔