سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 279
سيرة النبي علي 279 جلد 2 اعزاز و اکرام کے لئے لوگ جاتے تو جو تیاں پہن کر صفا و مروہ پر کیوں دوڑتے پھرتے۔پھر وہاں لوگ کھاتے پیتے بھی ہیں اور وہیں چھلکے بھی پھینک دیتے ہیں۔پس اگر محض اعزاز و اکرام مد نظر ہوتا تو وہ کبھی ایسا نہ کرتے کہ اس مقام پر جوتے پہنے چلے جاتے اور وہیں چھلکے پھینکتے اور کوڑا کرکٹ بھی پھیلاتے۔پس وہ اس لحاظ سے وہاں جاتے ہیں کہ یہاں خدا کا جلال ظاہر ہوا تھا۔گرانے اور منہدم کرنے کا عقیدہ رکھنے والوں کے پاس بڑی سے بڑی دلیل اس شجر کی ہے جس کے نیچے رسول کریم ﷺ نے بیعت رضوان لی۔مگر وہ واقعات اس وقت ہمارے سامنے نہیں جو حضرت عمرؓ کے وقت میں پیش آئے اور نہ ہی وہ واقعات اس وقت موجود ہیں۔میں اُس وقت کے حالات کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا مگر میں یہ بات بغیر کسی قسم کے ڈر کے کہتا ہوں کہ میرے سامنے اگر یہ واقعہ ہوتا اور مجھ سے اس کے کاٹنے کے متعلق پوچھا جاتا تو میں یہی کہتا کہ اس درخت کو ہرگز نہیں کاٹنا چاہئے۔اگر کوئی اس کے ذریعہ شرک کرتا ہے تو ا سے روکنا چاہئے لیکن اس صلى الله درخت کو جس پر خدا کا جلال ظاہر ہوا اور جس کے نیچے آنحضرت علی کی صداقت کا ایک اور نشان نظر آیا مطلقاً نہیں کاٹنا چاہئے بلکہ اس کی حفاظت کرنی چاہئے کہ وہ دیر تک قائم ، رہ سکے۔جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے میں پھر کہتا ہوں کہ ان حالات کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ اس درخت کو نہیں کاٹنا چاہئے تھا۔ہاں شرک کے پھیلنے کا اگر کوئی خطرہ اس کے وجود سے پیدا ہو گیا تھا تو اسے دور کیا جاسکتا تھا۔ممکن ہے کوئی ایسا ہی خطرہ پیدا ہو گیا ہو جس سے اس کا نہ رکھنا ہی حضرت عمرؓ نے مناسب جانا ہو۔ورنہ کسی معمولی سی بات کے لئے حضرت عمرؓ جیسے انسان سے یہ امید نہیں ہوسکتی کہ وہ اس درخت کو کاٹ دیتے۔یہ درخت جس کے بچے صلح حدیبیہ کے سے اہم موقع پر بیعت لی گئی معمولی درخت نہیں بلکہ شعائر اللہ میں سے تھا اور شعائر اللہ سے جس حد تک ایمان میں تازگی