سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 278
سيرة النبي عمال 278 جلد 2 مٹا دینا چاہئے جن پر حضرت ہاجرہ بے قراری کے ساتھ دوڑیں اور ان کی تنتبع میں اب بھی حج کے موقع پر لوگ ان کے درمیان دوڑتے ہیں۔پھر خانہ کعبہ کو بھی گرا دینا چاہئے کہ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بنایا اور پرانی روایات کو برقرار رکھنے کے لئے بنایا۔اور ایسا ہی دوسرے ان سب مقامات کو بھی گرا دینا چاہیے جن پر خدا کا جلال ظاہر ہوا کیونکہ لوگ ان کو مقدس سمجھتے اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ان مقامات پر لوگ اس لئے جاتے ہیں کہ دلوں میں روحانیت پیدا کریں اور یہ خیال کر کے کہ یہاں خدا کا جلال ظاہر ہوا خشیت اللہ پیدا ہوتی ہے۔اس لئے ان کا قائم رہنا توحید الہی پر ایمان لانے کے لئے ضروری ہے نہ کہ مضر۔پس وہ قوم جو مقابر وغیرہ کو گرا دینا چاہتی ہے اس کا فرض ہے کہ وہ دیکھے لوگ کس نیت سے وہاں جاتے ہیں۔ان کی نیت میں روحانیت پیدا کرنا ہوتا ہے کیونکہ وہ جب دیکھتے ہیں کہ یہ وہ مقام ہے جس پر خدا کا جلال ظاہر ہوا تھا اور یہ وہ مقام ہے جہاں رسول اللہ علیہ کی خدا نے مدد کی تھی، یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت ہاجرہ نے خدا کے لئے خطرات میں قیام کیا تھا تو ان کے ایمان میں ترقی ہوتی ہے۔ان کے اندر روحانیت بڑھتی ہے۔ان کے دلوں میں خشیت اللہ پیدا ہوتی ہے۔اگر لوگوں کا ان مقامات پر جانا شرک ہے تو سب سے پہلے خانہ کعبہ کو اڑا دو کہ لوگ وہاں بھی جاتے ہیں۔پھر صفا اور مروہ کو مٹا دو کہ حضرت ہاجرہ کی اسی بے کلی اور اضطراب کی یاد میں لوگ اب بھی وہاں دوڑتے ہیں۔جو انہیں اپنے بچے کے لئے پانی تلاش کرتے وقت ہوئی تھی اور جس کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے فرمایا ہاجرہ ! جا آرام سے بیٹھ ! ہم نے تیرے بچے کے لئے پانی پیدا کر دیا۔کیونکہ جب دوسری جگہوں پر محض جانا شرک ہے تو ان جگہوں پر جانا بھی شرک ہو سکتا ہے۔پس ان کے ساتھ ان کو بھی گرا دینا چاہئے۔مگر میں پھر کہتا ہوں کہ لوگ وہاں شرک کے لئے نہیں جاتے۔وہ ان مقامات کے اعزاز و اکرام کے لئے ان پر نہیں جاتے۔ان کی نیت روحانیت پیدا کرنے کی ہوتی ہے۔اگر احترام اور