سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 277

سيرة النبي عمال 277 جلد 2 پھنس رہا ہے۔پس ہمارا حق ہے کہ ہم انہیں سمجھا ئیں اور اس غلط طریق سے جسے وہ اختیار کر رہے ہیں بچائیں۔باقی یہ کہنا کہ چونکہ حضرت عمر نے اس درخت کو جس کے نیچے صلح حدیبیہ کے وقت بیعت ہوئی تھی کاٹ ڈالا تھا اس لئے قبوں کو بھی گرا دینا چاہئے درست نہیں۔معلوم نہیں اُس وقت کیا حالات تھے اور حضرت عمرؓ کو کیا ضرورت پیش آئی تھی اور اس درخت کے قائم رہنے سے وَاللهُ اَعْلَمُ ان کے نزدیک کیا خطرہ تھا۔اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ چونکہ حضرت عمرؓ نے اس درخت کو کاٹ دیا تھا اس لئے ہم اب تمام مقبروں اور تمام قبوں اور تمام قبروں اور تمام ان مقامات کو گراتے ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے اس صلى الله قابل ہیں کہ قائم رہیں۔خواہ رسول اللہ ا نے ہی کسی کی بنیاد کیوں نہ رکھی ہو یا خواہ خدا تعالیٰ نے ہی اسے اپنے شعائر میں سے کیوں نہ قرار دیا ہو۔پس ایسی باتیں اس قوم کے منہ سے اچھی نہیں لگتیں جو شرک کے مٹانے کا دعویٰ رکھتی ہو۔کیونکہ شرک تو اس لئے مٹایا جاتا ہے کہ توحید پھیلے لیکن جب تو حید ہی کو پھیلانے کے ذرائع منقطع کئے جائیں تو پھر یہ بات کہ ہم شرک کو مٹاتے ہیں صرف دعوئی ہی دعویٰ رہ جاتی ہے۔پس میں کہتا ہوں کہ شرک کو مٹاؤ لیکن شرک کو مٹاتے الله ہوئے رسول کریم ﷺ کے نشانات اور شعائر اللہ نہ گراؤ۔اور ان مقامات کو ملیا میٹ نہ کرو کہ جن کو دیکھ کر ایک شخص کے دل میں توحید کی لہر پیدا ہوتی ہے۔پس وہ قوم جو اہلحدیث کہلاتی ہے اور جس کا بڑا دعویٰ شرک کی بیخ کنی ہے وہ بالضرور شرک کے مٹانے کے لئے کوشش کرے اور ہم اس کوشش میں اس کے ساتھ ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ یہ نہ کرے کہ شعائر اللہ پر ہی کلہاڑا رکھ دے یا ان مقامات کی بنیادوں میں ہی پانی پھیر دے جن سے روایات اسلامی وابستہ ہیں۔لیکن اگر اس کا یہی عقیدہ ہے کہ سب قبروں کو گرا دیا جائے اور سب مقبروں کو مسمار کر دیا جائے حتی کہ آنحضرت ﷺ کے مزار پر جو گنبد ہے اسے بھی ہٹا دیا جائے تو پھر میں کہتا ہوں کہ انہیں صفا و مروہ کو بھی