سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 276
سيرة النبي ع 276 جلد 2 ا قدر و قیمت کی کوئی حد ہی نہیں ہمیں جوش پیدا نہ ہو۔پس وہ موحد قوم جس نے شرک کی بعض کڑیوں کو توڑ دیا اس پر غور کرے اور دیکھے کہ وہ اپنے اس فعل سے کیا بات ثابت کر رہی ہے اور حفاظت کے سوال کو کس حد تک مد نظر رکھ رہی ہے۔یہاں تو ایک گنبد کے لئے شور برپا ہے مگر میں کہتا ہوں حفاظت کے لئے اگر ایک سے زیادہ گنبد بھی بنانے پڑیں تو بنانے چاہئیں۔جس قدر بھی ہم آپ کے جسم کی حفاظت کر سکیں اتنی کرنی چاہئے۔آج کل ہوائی جہازوں اور توپ کے گولوں اور دیگر اس قسم کی ایجادوں سے پل بھر میں ایک عالم کو تباہ کر دیا جا سکتا ہے۔اس لئے آپ کی قبر کی حفاظت کا سوال اور بھی اہم ہو گیا ہے۔پس اگر ان ہوائی جہازوں ، توپ کے گولوں اور سرنگوں وغیرہ کے ذریعے آپ کے جسم کو نکال لے جانے کے منصوبوں سے محفوظ رکھنے کے لئے اور بھی گنبد بنانے پڑیں اور اگر اور بھی ایسی تدابیر اختیار کرنی پڑیں جن سے كَمَا حَقُۂ حفاظت ہو جائے تو وہ شرک نہیں ہوگا بلکہ عین اسلام ہوگا۔بیشک جو حکومت وہاں ہو وہ ان لوگوں کو جو مشرک ہوں شرک کرنے سے رو کے یا ان کو وہاں سے نکال دے مگر مزار رسول اللہ علہ کی حفاظت کے پورے سامان کئے ﷺ جائیں۔پس اگر ابن سعود ایسا کریں یعنی آنحضرت علی کے مزار کی حفاظت ہر طرح ہیں اور ایسا ہی دوسرے ضروری مقامات کی بھی تو ہمیں ان سے اتفاق ہے کیونکہ لوگ ایک حد تک اصلاح کی طرف قدم اٹھا رہے ہیں۔ان چیزوں سے جو مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے بنائی جاتی ہیں یا جن کی غرض نصیحت یا عبرت دلانا ہوتی ہے ہمیں ایک حد تک اتفاق بھی ہے اور ایک حد تک اختلاف بھی۔اتفاق تو اس لئے ہے کہ یہ حفاظت کی غرض اور بعض دوسری مفید غرضوں کے لئے بنائی جاتی ہیں اس لئے یہ ضروری ہیں۔اور اختلاف ان کی پرستش کے متعلق ہے اور شرک پھیلنے کے لئے ہے۔اور یہ اختلاف خود حنفیوں میں بھی ان مقامات کے متعلق موجود ہے۔لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ ایک گروہ ان کے ذریعے شرک میں