سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 275
سيرة النبي عمال 275 جلد 2 الله آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ﷺ مجھے بہت پیارے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیا جان سے بھی بڑھ کر میں پیارا ہوں؟ حضرت عمرؓ نے کہا ایسا تو نہیں۔آپ نے فرمایا کہ جب تک میں تمہیں جان سے بڑھ کر پیارا نہ لگوں تب تک تمہارا ایمان بھی کامل نہیں ہو سکتا۔تو جب ایمان کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ آپ ﷺ کی محبت سب سے زیادہ ہو تو پھر کیونکر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ کے مرنے کے بعد آپ کے جسم سے اگر محبت نہ بھی ہو تو کوئی حرج نہیں۔پس کیا بلحاظ آپ کے احسانات کے اور کیا بلحاظ اس ایمان کے جو ہم میں پیدا کیا گیا ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم آپ کے جسم کی حفاظت آپ کی وفات پانے کے بعد بھی اسی طرح اور اسی محبت سے کریں جس طرح اور جس محبت کے ساتھ کہ آپ کی زندگی میں آپ کے جسم اور جان کی حفاظت کی جاتی تھی اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے جسم کی حفاظت کرنا یہی ہے کہ اسے دشمنوں کی منصوبہ بازیوں اور ان کی شرارتوں سے بچایا جائے۔مجھے حیرت ہے کہ وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ وفات کے بعد رسول کریم ہے کے مزار کی حفاظت کی ضرورت نہیں اور اس کے احترام کی حاجت نہیں۔حالانکہ ان کے بڑے تو بڑے اگر ایک بچہ بھی مر جاتا ہے تو وہ اس کے بے جان جسم کی حفاظت کے لئے سب کچھ ہی کرتے ہیں۔کیا ایک چند دن کا چھیچھڑا بھی جو مر جاتا ہے اس کے جسم کو احتیاط کے ساتھ زمین میں دفن نہیں کیا جاتا اور اس کی قبر کی حفاظت نہیں کی جاتی ؟ اگر کی جاتی ہے تو کیا یہ شرک ہے؟ کیا ہم پسند کرتے ہیں کہ کوئی جا کر ہمارے بچہ کی قبر کھود ڈالے؟ اگر کوئی ایسا کرے تو اُس وقت ہمیں تکلیف نہیں ہو گی ؟ پس اگر ایک بچے کی قبر کو ملیا میٹ کرنے کے لئے کوئی شخص ہاتھ اٹھاتا ہے تو ہمارا جوش انتہائی درجہ پر آجاتا ہے اور وہ محبت جو اس کے لئے ہمارے دل میں مرنے کے بعد بھی ہوتی ہے ہمیں مضطرب کر دیتی ہے تو جب ایک بچے کے لئے جس کی کوئی بھی قدر و قیمت نہیں ہوتی ہمیں جوش آجاتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کے مزار کے لئے جن کی