سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 274

سيرة النبي ع 274 جلد 2 حفاظت کا سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ آپ کے جسم کی حفاظت کے لئے ہر ممکن تدبیر اختیار کی جائے۔دشمنوں کی طرف سے اس قسم کی کوششیں ہوتی رہی ہیں کہ سرنگ لگا کر آپ کے جسم کو قبر میں سے نکال لیا جائے اور عجائب گھر میں رکھا جائے۔ایسا ہی اور بیسیوں قسم کے منصوبے دشمنوں کی طرف سے ہوتے رہتے ہیں۔ایسی حالت میں آپ کی قبر کی حفاظت کرنا اور اس پر گنبد بنا کر اسے محفوظ کر دینا شرک نہیں ہو گا بلکہ عین اسلام ہو گا۔مسلمان آنحضرت ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کیا محبت کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ جس کے ساتھ محبت کی جائے اس کے مرنے کے بعد اس سے محبت کرنا چھوڑ دیا جائے ؟ خالص محبت کے تو یہ معنی ہیں کہ جس طرح زندگی میں اس کے ساتھ محبت کی جائے اسی طرح مرنے کے بعد بھی اس کے ساتھ محبت کی جائے۔یہ نہیں کہ جب تک وہ زندہ رہا محبت کرتے رہے اور جب وہ مر گیا تو محبت بھی مرگئی۔پھر یہاں تو معاملہ ہی اور ہے۔یہاں نہ صرف رسول کریم ﷺ کی محبت کا سوال ہے بلکہ آپ کے احسانات کا بارگراں بھی ہمارے سروں پر ہے۔اس صورت میں کیا یہ ضروری نہیں کہ ہم آپ کے بعد آپ کے جسم مبارک کی كَمَاحَقُهُ حفاظت کریں۔آپ کی تو یہ شان ہے کہ خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے اِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحببكُمُ اللهُ 2 یعنی اگر تم یہ چاہتے ہو کہ خدا سے محبت کرو تو اس کا یہ طریق ہے کہ اس کے رسول سے محبت کرو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تمہارے ساتھ محبت کرے گا۔پس آپ ﷺ سے دراصل محبت کرنے والا وہی شخص ہو گا جو خدا کے بعد ہر ایک چیز سے صلى الله بڑھ کر آپ سے محبت کرنے والا ہو۔اگر ہم یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات ثابت کر دینی چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے سوا ہمارے دلوں میں اور کسی چیز کی محبت آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر نہیں۔کیا حدیثوں میں نہیں آیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ