سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 272
سيرة النبي عمال کہ روک دے۔272 جلد 2 بعض لوگ جب دوسری قبروں کے متعلق یہ دیکھتے ہیں کہ وہ شرک کا منبع بن رہی ہیں تو انہیں آنحضرت ﷺ کے مقبرہ کے متعلق بھی یہی خیال گزرتا ہے کہ اس سے بھی شرک پیدا ہوتا ہے مگر اس کے متعلق ان کا یہ خیال کرنا غلطی ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ صلى الله کے مزار مبارک پر جو گنبد بنایا گیا ہے وہ اس لئے نہیں کہ اس سے روضہ کی شان بڑی بنا کر پرستش کی جائے بلکہ وہ اس لئے بنایا گیا تھا کہ شرک نہ ہو۔رسول کریم ﷺ کی قبر کو چھپانے کے لئے اس پر گنبد بنایا گیا تھا۔پس اس گنبد سے یہ قیاس کرنا کہ اس سے شرک پیدا ہوتا ہے سراسر غلطی ہے۔وہ تو بنایا ہی اس لئے گیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کی قبر کو چھپا دیا جائے تا کہ آنکھوں کے سامنے ہونے کی وجہ سے ایسے جذبات نہ پیدا ہو جائیں جو مشر کا نہ حرکات سرزد کرا دیں۔جبکہ اس کی غرض ہی یہ تھی کہ آپ کی قبر کو چھپا دیا جائے تا اس کے ذریعہ شرک نہ پھیلے تو اس کے متعلق یہ کہنا کہ اس سے شرک پھیلتا ہے میری رائے میں کہنے والوں کی کمی تدبر اور قلت عقل پر دلالت کرتا ہے۔پس میں پھر کہتا ہوں کہ کسی اعزاز کے لئے آنحضرت علی کی قبر پر گنبد نہیں بنایا گیا بلکہ اس کی حفاظت کے لئے بنایا گیا اور اس غرض کے لئے بنایا گیا کہ تا آپ کی قبر چھپی رہے۔الله کسی اعزاز کے لئے رسول کریم ﷺ کی قبر گنبد کی محتاج نہیں۔اعزاز اگر کوئی ہو سکتا ہے تو وہ بجائے خود ہے اور کسی بیرونی کوشش سے نہیں ہوسکتا۔پس اس کے لئے کسی سے نہیں ہو سکتا۔پر گنبد کی یا کسی اور شے کی ضرورت نہ تھی۔آنحضرت ﷺ جب زندہ تھے اُس وقت صحابہ آپ کی حفاظت کرتے تھے۔پھر کوئی وجہ نہیں کہ آپ کی وفات کے بعد دشمنوں سے بچانے کے لئے آپ کے جسم مبارک کی حفاظت مسلمان نہ کریں۔جس طرح آنحضرت ﷺ کی زندگی میں دشمن تھے اسی طرح آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کے دشمن ہیں جو آپ کے جسم مبارک کو بے حرمت کرنے کی نا پاک خواہش رکھتے ہیں۔وہ لوگ جو روضہ مبارک