سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 271

سيرة النبي الله 271 جلد 2 رسول کریم ﷺ کے مقبرہ اور دیگر شعائر اللہ کی حفاظت کی اہمیت حضرت مصلح موعود 27 نومبر 1925 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔مکہ اور مدینہ میں بہت سی قبریں بنی ہوئی ہیں جن کا احترام کیا جاتا ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ ان میں سے پچاس فیصد سے بھی زیادہ فرضی ہیں اور یہ محض ڈھکونسلے ہیں کہ یہاں فلاں صحابی دفن ہوئے اور یہاں فلاں صحابیہ۔جب میں حج کے لئے وہاں گیا تو میں ان کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔لوگوں نے بعض قبریں یونہی بنا رکھی ہیں، کوئی تاریخی ثبوت ان کے متعلق نہیں ہے اور خود وہاں کے اہل علم لوگوں کا خیال ہے کہ ان میں سے چند قبریں اصلی اور بچی ہیں باقی سب فرضی۔وہ جن لوگوں کے قبضہ میں ہیں وہ ان کے متعلق عجیب عجیب قسم کی برکتوں کا ذکر کرتے ہیں۔مگر یہ برکتیں ان برکتوں کے طور پر ہیں جو مندر کی برکتوں کی طرح ہوتی ہیں یا جو عقیدہ کے طور پر مانی جاتی ہیں اور ان کی کوئی اصلیت نہیں ہوتی اور ان کی مثال بالکل اسی طرح کی ہے جس طرح کہ یہاں پیروں کی گدیاں ہوتی ہیں۔مگر اس صورت میں بھی یہ مناسب اور جائز نہیں کہ سختی اور تشدد سے کام لیا جائے بلکہ ان لوگوں کو ایسی تعلیم دینی چاہئے کہ انہیں ترک کر دیں۔مگر خانہ کعبہ میں اگر ایسا ہو تو جو حکومت ہوگی میرے نزدیک اس کا فرض ہو گا کہ وہ وہاں سے لوگوں کو اس قسم کی باتوں سے روک دے اور مسجد نبوی بھی ایسی ہی ہے اس میں بھی اس قسم کی باتیں ہوں تو اس کے متعلق بھی حکومت کا فرض ہے