سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 273
سيرة النبي ع 273 جلد 2 کو بے حرمت کرنے کی ناپاک خواہش رکھتے ہیں ، وہ لوگ جو روضہ مبارک پر اعتراض کرتے ہیں اور کسی صورت میں بھی اس کا بنانا جائز نہیں قرار دیتے کیا وہ حدیثوں میں نہیں پڑھتے کہ صحابہ باری باری آنحضرت علی کے مکان پر پہرہ دیتے تھے۔کئی حدیثیں موجود ہیں جو بتاتی ہیں کہ صحابہ کرام آپ کی ہر وقت اور ہر طرح حفاظت کرتے تھے۔پھر کیا حدیثوں میں یہ نہیں ہے کہ جب رسول کریم ﷺہ جنگ میں جاتے تھے تو صحابی آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں رہتے تھے اور آپ کی ہر ممکن ذریعہ سے حفاظت کرتے کیونکہ سب سے زیادہ زور دشمنوں کا آپ ہی کی ذات پر ہوتا تھا اور سب سے بہادر وہی سمجھا جاتا تھا جو آپ کے قریب رہتا تھا 1۔تو جب آپ زندہ تھے اور آپ کے جسم کی حفاظت کی از حد ضرورت تھی تو جب آپ وفات پاگئے اُس وقت آپ کے جسم کی حفاظت کی کیوں ضرورت نہیں۔پس آپ کی قبر پر جو گنبد ہے وہ حفاظت کے لئے بنایا گیا ہے نہ کہ احترام کے لئے ، اور نہ اس بات کے لئے کہ اسے شرک کا منبع بنایا جائے۔یہ آپ کی قبر کے گنبد میں اور دوسری قبروں کے قبوں میں فرق ہے۔مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ زید یا بکر کی قبر پر جو گنبد بنایا گیا ہے وہ اس لئے بنایا گیا ہے کہ اس طرح اس قبر کا احترام قائم ہو۔زید بکر عمر کی قبریں شاید اس طرح احترام کی محتاج ہوں لیکن آنحضرت ﷺ کی قبر اس قسم کی احتیاج سے مستغنی ہے۔پس اس پر جو گنبد بنایا گیا ہے وہ صرف حفاظت کے لئے ہے اور کون ہے ایسا شخص جو مسلمان کہلاتا ہو اور پھر ہر وہ بات کرنے کے لئے تیار نہ ہو جو آپ کے جسم کی حفاظت کے لئے ضروری ہو۔یا جو بات آپ کے جسم کی حفاظت کے واسطے کی گئی اس کو رد کرنے کی کوشش کرے۔یقیناً کوئی ایسا مسلمان نہ ہوگا جو آپ کے جسم کی حفاظت نہ کرنا چاہتا ہو یا جس طریق سے اس کی حفاظت کی گئی ہو اس کو نا پسند کرتا ہو۔اگر مخالفوں کی ان کوششوں اور ان منصو بہ بازیوں پر نظر کی جائے جو رسول کریم ﷺ کی قبر سے آپ کے جسم مبارک کو نکال لینے کے متعلق کی گئیں تو آپ کے جسم کی صلى