سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 263
سيرة النبي عالم 263 جلد 2 سے محبت کرتے تھے۔پھر فرماتے ہیں مجھے عورتوں کی محبت ہے۔یہاں نساء کا لفظ ہے ازواج کا نہیں۔یعنی بیویوں کا ذکر نہیں بلکہ عام عورتوں کا ذکر ہے۔اور آپ فرماتے ہیں کہ کوئی مذہب نہیں آیا جس نے عورتوں کے حقوق اور فوائد کی اس طرح نگہداشت کی ہو جس طرح میں کرتا ہوں۔پہلے مذاہب نے عورتوں کے حقوق دبائے ہوئے ہیں کوئی ان سے ہمدردی نہیں کرتا مگر میں ان کے حقوق قائم کروں گا اور میں ان کی ترقی کا بھی اسی طرح خیال رکھوں گا جس طرح مردوں کی ترقی کا۔پھر فرمایا قُرَّةُ عَيْنِى فِى الصَّلوة کہ نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھی گئی ہے۔یہ بھی خاص امتیاز ہے جو اسلام کو دیگر مذاہب کے مقابلہ میں حاصل ہے۔دنیا میں کوئی قوم نہیں جس میں نماز کی طرح عبادت میں باقاعدگی رکھی گئی ہو۔پچھلے تمام مذاہب ظاہری حرکات پر زور دیتے رہے یا ان میں عبادت کے اوقات اتنے فاصلہ پر رکھے گئے ہیں کہ روحانیت کمزور ہو جاتی ہے مگر صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے کہ جس کے ماننے والوں کو ایک دن میں پانچ وقت عبادت کے لئے بلایا جاتا ہے اور کوئی مذہب ایسا نہیں ہے۔عیسائی اور ہندو ہفتہ میں ایک بار عبادت کے لئے جاتے ہیں۔ممکن ہے ان میں سے بعض لوگ رات دن عبادت کرتے ہوں مگر یہ اجتماعی عبادت کا ذکر ہے۔ایک دن میں کئی بار عبادت کرنے کا حکم رسول کریم نے ہی دیا ہے۔پھر صلوٰۃ کے معنی دعا کے بھی ہیں اور اس طرح رسول کریم ﷺ نے دعا پر زور دیا ہے۔دوسرے مذاہب کی عبادتوں میں ظاہری باتوں پر زور دیا گیا ہے اور ان کے ذریعہ عبادت میں لذت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مثلاً آریوں اور عیسائیوں میں گانا بجانا ہوتا ہے مگر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں مجھے ایسی عبادت عطا ہوئی ہے کہ اسی میں لذت ہے اور ایسی لذت ہے جس کا کوئی مذہب مقابلہ نہیں کر سکتا۔پس یہ محبت ہے جو رسول کریم ﷺ کو دی گئی۔اب کیا رسول کریم ﷺ خوشبو ، عورتوں اور صلوٰۃ سے محبت کرنے کی وجہ سے ( نَعُوذُ بِاللهِ) مشرک ہو گئے تھے؟ ہرگز الله صلى الله